ایران نے سلمان رشدی پر حملہ کرنیوالے ھادی کے لیے تحفہ کا اعلان کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی مصنف سلمان رشدی کو چھرا گھونپنے والے لبنانی نژاد امریکی نوجوان ہادی مطر کو ایک ایرانی عہدیدار نے قیمتی تحفہ پیش کر دیا ہے۔ اس اقدام سے گذشتہ برس اگست کو ہونے والے اس حملے میں تہران کے ملوث ہونے کا اندازہ بھی لگایا جا رہا ہے۔ اس وقت کئی عہدیداروں نے ایران کے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کر دی تھی۔

پیر کی شام سلمان رشدی کے خلاف خمینی کے فتوے کے نفاذ کے لیے عوامی کمیٹی کے سیکرٹری محمد اسماعیل زارعی نے حملہ آور کو ایک ہزار مربع میٹر اراضی دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہوئی کہ اس نے ایسا کیا۔

زارعی نے کہا کہ سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے اس بہادر نوجوان کے اعزاز میں 1000مربع میٹر زرخیز اور قیمتی زرعی زمین دی گئی۔ یہ تحفہ ایک خصوصی تقریب کے دوران ھادی مطر کو یا اس کے قانونی نمائندے کے حوالے کیا جائے گا۔

ایران کے اسماعیل زرعی نے اس امریکی نوجوان کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے اس کارروائی کو "جرات مندانہ اقدام" قرار دیا اور کہا تھا کہ ھادی نے سلمان رشدی کو ایک آنکھ سے اندھا کر دیا۔ اس کو ایک ہاتھ سے معذور کر دیا۔ اس پر ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔

سلمان رشدی پر 12 اگست 2022 کو حملہ کیا گیا تھا۔ رشدی نے فروری 1989میں ایک گستاخانہ ناول "شیطانی آیات" لکھا تھا جس پر پورے عالم اسلام میں زبردست احتجاج کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں