سعودی عرب میں 2023 میں 1,705 نئی فیکٹریاں پیداوار کا آغاز کر دیں گی

وزارت صنعت کم اجرت اور مہارت والی ملازمتوں کی بجائے آٹومیشن اور پیداواری کارکردگی پر انحصار بڑھانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں وزارت صنعت اور معدنی وسائل کے انڈر سیکریٹری البدر فودہ نے آج بدھ کو العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ 2023 میں زیر تعمیر تقریباً 1,705 نئی فیکٹریاں پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو جائیں گی۔

فودہ نے کہا کہ 2022 میں صنعتی شعبے میں پیدا ہونے والی ملازمتوں کی تعداد 52,000 سال 2021 کی 77,000 ملازمتوں کے مقابلے میں کم تھی، تاہم یہ منفی اشارے نہیں ہیں، بلکہ "فیوچر فیکٹریز" پروگرام کے نتائج کے مثبت اشارے ہیں، جس کا مقصد کم اجرت اور مہارت والی ملازمتوں کو آٹومیشن سے تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سی فیکٹریاں اس پروگرام میں شامل ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں ملازمتوں کا بڑا حصہ مزدوری پر مشتمل ہے، ہم اس سے چھٹکارا پانے اور تکنیکی، آپریشنل اور انجینئرنگ کے میدان میں ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی وزارت صنعت نے اکتوبر 2021 میں "مستقبل کی فیکٹریاں" اقدام کا آغاز کیا اور یہ 5 سال تک جاری رہے گا۔ اس کا مقصد صنعتی شعبے میں انتہائی کم اجرت والی مزدوری پر انحصار گھٹا کر آٹومیشن اور پیداوار کی کارکردگی پر انحصار بڑھانا ہے۔

گزشتہ روز وزارت صنعت و معدنی وسائل کی طرف سے جاری کردہ شماریاتی بلیٹن کے مطابق، سعودی صنعتی شعبے نے سال 2022 کے دوران 32 ارب ریال کی نئی فیکٹریوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

بلیٹن کے مطابق 2022 میں پیداوار شروع کرنے والی نئی فیکٹریوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی اور ان میں سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 29 ارب ریال ہے جب کہ اس شعبے نے سال کے دوران تقریباً 52,000 اضافی ملازمتیں فراہم کیں۔

کان کنی کے شعبے میں 670 نئے لائسنس دیئے گئے، جس سے لائسنسوں کی کل تعداد 2,300 ہوگئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں