پاسداران انقلاب کے خفیہ عقوبت خانے، مساجد کے تہہ خانوں میں بھی ٹارچر سیل کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کے خفیہ عقوبت خانو ں کے ایک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس میں "کرنٹ لگانا، ناخن اکھیڑنا، کوڑے مارنا اور اعضاء توڑنے کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد معمول کی بات ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘کی ایک رپورٹ کے مطابق متعدد سابق زیر حراست افراد سے ملنے والی شہادتوں سے پاسداران انقلاب کے زیر اہتمام 30 خفیہ ٹارچر سیلوں کا انکشاف ہوا ہے۔

ان میں سے بہت سے تشدد کے مراکز سرکاری سہولیات جیسے کہ فوج اور پاسداران انقلاب کے اڈے میں واقع غیر اعلانیہ جیلیں ہیں، جن کے بارے میں انسانی حقوق گروپوں اور وکلاء کو برسوں سے معلوم ہے۔

مسجدوں کے بیسمنٹ

رپورٹ کے مطابق گودام، عمارتوں کے خالی کمرے، یہاں تک کہ مساجد کے تہہ خانوں کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

متعدد کارکنوں کے مطابق، یہ خفیہ مقامات اکثر گرفتار کیے جانے والوں کے لیے پہلا پڑاؤ ہوتے ہیں، خاص طور پر وہ مظاہرین جو گذشتہ ستمبر سے نوجوان خاتون مہسا امینی کے قتل کے بعد احتجاجی مظاہروں میں سے گرفتار کیے گیے۔

جنسی اور جسمانی تشدد

ٹارچر سیلوں میں پوچھ گچھ کے درمیان زبانی بدسلوکی سے لے کر شدید جنسی اور جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔جبکہ گرفتار مظاہرین کے لواحقین کو گھنٹوں اور دنوں تک ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہوتا۔

مشہد کے ایک گودام میں قائم حراستی مرکز سے رہا ہونے والے ایک کارکن نے بتایا کہ "گرفتار ہونے والوں میں سے بہت سے لوگوں کو شدید مارا پیٹا گیا تھا، اور ان کے ناک، بازو یا پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ماضی میں بھی چھ سال قید کاٹ چکے ہیں لیکن "اس بار صورتحال بہت زیادہ خراب تھی۔"

انہوں نے بتایا کہ انہیں ہراساں کیا گیا اور ویڈیو بنائی گئی۔

فاطمہ، جسے تہران کے شمال میں تجریش کے مقام پر خفیہ جیل میں رکھا گیا تھا، نے بتایا کہ"اہلکار اسے چھت پر لے گئے اور سر سے پاؤں تک اس کی ویڈیو بنانے لگے۔" اعتراض کرنے پر "انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ، مجھے فاحشہ عورت کہا اور کہا کہ ہم نے آپ کی ویڈیو بنائی ہے تاکہ ہم بتا سکیں کہ غیر ملکی میڈیا نے آپ کو متاثر کیا ہے۔"

ایرانی حکام کے ہاتھوں گرفتاری کے دوران درجنوں گرفتار مظاہرین پراسرار حالات میں ہلاک ہو گئے تھے جب کہ ان کے اہل خانہ نے سکیورٹی فورسز پر انگلی اٹھائی تھی۔ رہائی کے فوراً بعد قیدیوں میں سے بعض نے خودکشی کر لی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے تصدیق کی ہے کہ مہسا امینی کے قتل کے بعد ایران کے مختلف علاقوں میں ہونے والے زبردست مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان میں سے درجنوں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے جب کہ مظاہروں کے دوران 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں