اسرائیل نے دمشق پر حملہ میں پاسداران انقلاب کی خفیہ میٹنگ کو نشانہ بنایا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے ہفتہ کی رات دمشق پر حملہ کیا، اسرائٍیل نے 2023 میں دمشق پر دوسری مرتبہ حملہ کیا ۔ باخبر ذرائع نے اس حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ ایک حکومتی ذریعہ نے بتایا ہے کہ اسرائیلی چھاپوں میں ایک خفیہ اجلاس کو نشانہ بنایا جس میں شامی گارڈ کے تکنیکی ماہرین اور شامی حکومت کی فوج کے انجینئرز بھی شامل تھے۔ اس اجلاس میں میں ڈرونز اور گائیڈڈ میزائلوں کی تیاری کے پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کا انعقاد پاسداران انقلاب نے کیا تھا۔ رائٹرز نے بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ان چھاپوں سے کسی اعلیٰ ایرانی ماہر کی موت نہیں ہوئی۔

مزید برآں ذریعہ نے بتایا کہ چھاپوں میں ایک ایسے مرکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں وہ باقاعدگی سے ملاقات کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ایک شامی انجینئر اور ایک ایرانی اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔

ایک اور ذریعہ نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے حکومت کی فوج کا ایک سویلین انجینئر شامل تھا جو ’’کفر سوسہ‘‘ میں "سائنٹیفک سٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر" میں کام کر رہا تھا۔ اس سینٹر کو مغربی ممالک کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری پر کام کرنے والا ایک فوجی ادارہ سمجھتے ہیں۔

ایک اور سکیورٹی ذریعہ نے انکشاف کیا کہ ایرانی میزائل پروگرام میں ملوث پاسداران انقلاب کا ایک انجینئر شدید زخمی ہوا ہے جسے تہران کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ دو دیگر افراد بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ ایک باخبر علاقائی انٹیلی جنس ذریعہ نے یہ بھی بتایا کہ چھاپوں میں شام میں پاسداران انقلاب کے زیر انتظام پوشیدہ میزائل پروڈکشن پروگرام کے ایک حصے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک اور ذریعے نے واضح کیا کہ حملوں میں ایرانی حکام اور لبنانی حزب اللہ کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی حملہ کے بعد کا منظر
اسرائیلی حملہ کے بعد کا منظر

واضح رہے گزشتہ اتوار کو دمشق میں جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھاوہ ’’کفر سوسہ‘‘ محلے میں واقع ہے جہاں بہت سے ایرانی سیکورٹی ادارے تعینات ہیں اور ساتھ ہی علاقے کے رہائشیوں کے مطابق ایک ایرانی ثقافتی مرکز بھی ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ حزب اللہ کے سب سے اہم رہنما عماد مغنیہ 2008 میں اسی محلے میں ایک پراسرار دھماکے میں مارے گئے تھے۔ یاد رہے اسرائیل نے گزشتہ برسوں کے دوران شام کی سرزمین پر سینکڑوں حملے کیے تاہم اس نے شاذ و نادر ہی حملوں کو تسلیم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں