حکومت چھوڑنے کے مطالبات کامقابلہ ، خامنہ ای نے میڈیا میں آمد بڑھا دی

شدید کریک ڈاؤن کے بعد ایران میں غصہ اور ناراضی بڑھ گئی، حکومت کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھنے لگے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پرتشدد اور مسلسل مظاہروں کے ایک سلسلے کے بعد علی خامنہ ای نے عوامی زندگی میں زیادہ فعال کردار اپنانا شروع کردیا ہے۔ وہ مظاہروں کے بعد حکومت کی اتھارٹی کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح علی خامنہ ای کے میڈیا میں نظر آنے میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے۔ یاد رہے نے حالیہ مظاہروں کو اسلامی انقلاب کے بعد سے سب سے زیادہ شدید قرار دیا ہے۔ یہ مظاہرے 16 ستمبر 2022 کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب ایک کرد خاتون مہسا امینی کی پراسرار موت اخلاقی پولیس کی حراست میں ہوگئی تھی۔ جمہوریہ کے سپریم لیڈر اور حتمی فیصلہ ساز نے فروری کے اوائل میں دسیوں ہزار قیدیوں کو معاف کرنے کا علامتی قدم اٹھایا جن میں سے کچھ حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث تھے ۔

خامنہ ای نے اس ماہ ایک اور پہلو پر کام کیا اور وہ ٹیلی ویژن پر خاص انداز میں نظر آئے۔ ٹی وی پر ان کو دیکھا گیا کہ وہ لڑکیوں کے ایک گروپ کے ساتھ رنگ برنگے اسلامی لباس پہنے ہوئے نماز ادا کر رہے ہیں۔ وہ نماز میں بچیوں کی امامت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ریاستی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت بھی کی اور ایرانی صنعت کاروں اور تاجروں کے ساتھ ملاقاتوں میں شرکت کی۔

مظاہروں پر توجہ ہٹانے کے اقدامات سے ایسے اشارے نہیں ملے ہیں کہ 83 سالہ ایرانی مذہبی رہنما 1979 کے انقلاب کے بعد سے حکمرانی کرنے والی تھیوکریٹک حکومت کو تبدیل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس وہ ایران کو درپیش بہت سے مسائل کا علاج کرنے والے کے طور پر اپنا تاثر پیش کرنے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اخلاقی پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والی مہسا امینی کو اسلامی لباس کے ضابطوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا ۔ اپنی گرفتاری کے تین روز بعد ان کی موت ہوگئی تھی۔

ایران میں احتجاجی مظاہرہ کے مناظر میں سے ایک 1

احتجاجی تحریک چار ماہ تک شدت سے جاری رہی تاہم اس کے بعد مظاہروں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم اب سڑکوں پر احتجاج کے بجائے لوگوں میں غصہ اور مایوسی بڑھتا جارہا ہے۔ اس احتجاجی تحریک کے دوران ایرانی حکومت نے چار احتجاجی کارکنوں کو سزائے موت بھی دی ہے جس سے لوگوں کی مایوسی مزید بڑھ گئی ہے۔ دوسری طرف سخت گیرعناصر مغربی اور علاقائی دشمنوں کو بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ احتجاجی تحریک کے بعد سپریم لیڈر مزید مضبوط ہوکر سامنے آئے ہیں۔

ملک کی اپوزیشن نے آئین کی بنیاد پر خامنہ ای کے استعمال کردہ "مطلق" طاقت کو ختم کرنے اور ایک نئے سیکولر جمہوری ادارے کے قیام کا مطالبہ کیا۔تاہم احتجاجی تحریک کی ناکامی وسیع سکیورٹی اور اقتصادی نیٹ ورکس والی حکومت سے نمٹنے میں مشکلات کو واضح کرتی ہے۔ حکومت کے کسی ناقد نے موجودہ نظام کا کوئی قابل عمل متبادل پیش نہیں کیا اور نہ ہی کوئی مقبول اپوزیشن لیڈر سامنے آیا ہے۔ ایک اصلاح پسند تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ حکومت خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہے کہ ان مظاہروں میں بھی کوئی قابل اعتبار متبادل سامنے نہیں آیا۔

ان احتجاجی مظاہروں کے باوجود مغرب کے خلاف حکومت کی دشمنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ کرے گا یا اس حوالے سے مغرب کو کوئی رعایت دے گا۔ ایک اصلاح پسند سابق نائب صدر محمد علی عبتہی نے مقامی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حکومت بالآخر "معمولی" اصلاحات پر راضی ہو جائے گی کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔ لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نصف اقدامات متوسط طبقے کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے جس نے جمہوریت کے حامی مظاہروں کی قیادت کی ہے۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے گھر میں نظر بند سابق وزیراعظم سے نقاد بنے میر حسین موسوی نے اس ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اب کسی بھی آئینی اصلاحات پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے بجائے پہلی مرتبہ حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ میر حسین موسوی کے الفاظ بہت سے ایرانیوں میں زبان زد عام ہو رہے ہیں تاہم سابق صدر محمد خاتمی کے قریبی دوسرے اصلاح پسندوں کا خیال ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنا طاقتور تباہ کن قوتوں کو جنم دے گا اور اس لیے یہ بہت مہنگا پڑے گا۔ یہ اصلاح پسند سپریم لیڈر پر زور دے رہے ہیں کہ وہ بنیادی اصلاحات کریں تاہم یہ بھی کچھ لوگوں کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

چوالیس سال کی ایک نرس ملیحہ نے کہا کہ ہمیں کافی دھوکہ دیا گیا ہے، اسلامی جمہوریہ کو جانا ہوگا - رک جاؤ! مجھے اب اس ملک میں اپنے یا اپنے بیٹے کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ اصلاح پسند تجزیہ کار سعید لیلاز نے کہا کہ اس طرح کی مایوسی اور حکومت کی مقبولیت کا زوال ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ بہت سے سخت گیر حالات کی سنگینی سے لاعلم ہیں۔ اگلے سال کے اوائل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات عوامی رائے کا امتحان لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرہ اپنی امید کھو چکا ہے، لیکن سرکاری ٹیلی ویژن اب بھی نفرت اور انتہا پسندی پھیلا رہا ہے۔ اس معاملے میں خامنہ ای ان لوگوں کے لیے واحد امید تھے جو اصلاحات کے خواہاں تھے، کیونکہ وہ صرف وہی ہیں جو اصلاحات متعارف کرانے کا اختیار رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں