روس اور یوکرین

روس ۔ یوکرین جنگ کا ایک سال،خونی تصادم، عالمی مذمت، مصالحت کے لیے چینی وژن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کو آج جمعرات 23 فروری کو ایک سال ہوگیا ہے۔ پچھلے ایک برس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان خونریز لڑائیاں اور سڑکوں پر جنگ جاری ہے۔ روسی فوج یوکرین کے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہےجب کہ کیف کو روسی ریچھ کے خلاف مغربی ممالک کی لاجسٹک اور فوجی مدد جاری ہے۔

بیجنگ نے یوکرین ۔ روس تنازعے کے حل کے لیے "سیاسی سمجھوتے" کا پروگرام پیش کیا، جب کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوٹیرس نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر روس کی فوجی کارروائی کی مذمت کی۔ انہوں نے روس کی طرف سے پڑوسی ملک یوکرین پر چڑھائی کو "اجتماعی ضمیر کی توہین" قرار دیا۔

برطانیہ نے آج ایک انٹیلی جنس بلیٹن میں کہا ہے کہ روسی افواج مشرقی دونباس علاقے کے وولیدار قصبے میں ایک اور حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ قصبہ پہلے ہی شدید بمباری کی زد میں ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ مشرقی شہر پخموت میں بھی گزشتہ دو دنوں سے لڑائی جاری ہے۔

تازہ ترین میدانی پیش رفت کے بارے میں’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ روسی فضائی دفاع نے ڈونیٹسک کے قلب کو نشانہ بنانے والے یوکرین کے متعدد میزائلوں کو مار گرایا۔

اس کے ساتھ ہی روسی وزارت دفاع نے کہا کہ روسی فوج نے صوبہ ڈونیٹسک کے مضافات میں واقع لیمان اور کوبیانسک کے علاقوں اور صوبے کے جنوب میں حملہ کیا۔ اس حملے میں یوکیرین کےتقریباً 500 فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ روس کی جمہوریہ ڈونیٹسک میں قائم مقام صدارتی مشیر نے کہا کہ باخموت شہرپر عن قریب کنٹرول حاصل کرلیا جائے گا۔ انہوں نےزور دے کر کہا کہ امکان ہے کہ یوکرینی افواج جلد ہتھیار ڈال دیں گی۔

روسی وزارت دفاع نے مستقبل قریب میں غیر تسلیم شدہ جمہوریہ ٹرانسنسٹریا کے خلاف اشتعال انگیزی کے لیے کیف حکومت کے منصوبوں کا بھی انکشاف کیا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں یوکرین کی مسلح افواج کے "ازوف" بٹالین اس منصوبے کو عملی شکل دے سکتی ہے۔

وزارت دفاع نے کہا کہ حملے کے بہانے ٹرانسنیسٹریا کے علاقے سے روسی افواج کے مبینہ حملے کی نقل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

سیاسی محاذ پرامریکی ڈپٹی پریس سکریٹری سبرینا سنگھ نےایک بیان میں کہا کہ امریکا روس کے ساتھ رابطے کےلیے دروازے کھلے رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ماسکو کے ساتھ بات چیت کا خیرمقدم کرتا ہے، لیکن روس کے ساتھ بات چیت میں یوکرین کی شمولیت ہی سود مند ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے "اسٹارٹ" معاہدے میں عدم شرکت کے فیصلے کے بعد امریکا نے اپنی جوہری قوتوں کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کیان کا کہنا تھا کہ اگر چین روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو گہرا کرتا ہے تو اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

درایں اثناء اقوام متحدہ میں روسی سفیرواسیلی نیبی نزیا نے مغرب پر الزام لگایا کہ وہ روس کو "ہر ممکن طریقے سے" شکست دینے کے لیے یوکرین اور ترقی پذیر دنیا کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔

روسی سفیر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک خصوصی اجلاس میں کہا کہ امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں نے یوکرین کو روس کو کچلنے کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا اور یوکرین میں نو نازی ازم کو نظر انداز کیا ہے۔

نیبی نزیا نے ان ممالک پر الزام لگایا کہ وہ "نہ صرف یوکرین کی قربانی دینے کے لیے بلکہ پوری دنیا کو جنگ میں جھونکنے کے لیے" تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں