چینی غبارے کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی طیارے کی عجیب سیلفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چند روز قبل امریکا کی جانب سے مبینہ چینی جاسوس غبارے کو مار گرائے جانے کے بعد امریکی محکمہ دفاع نے U-2 جاسوس طیارے کے کاک پٹ سے لی گئی سیلفی جاری کی ہے۔یہ سیلفی اس وقت لی گئی تھی اس کے پائلٹ نے چینی غبارے سے اونچی اڑان بھرتے ہوئے غبارے اور طیارے کی سیلفی لی۔ اس غبارے کو امریکی فوج نے رواں ماہ کے شروع میں نے مار گرایا تھا۔

U-2 پائلٹ کی طرف سے لی گئی پروفائل تصویر میں غبارے پر طیارے کا سایہ اور غبارے کے پے لوڈ کی واضح تصویر دکھائی دیتی ہے۔ یہ تصویر اس وقت لی گئی جب غبارہ امریکی فضائی حدود سے گذر رہا تھا۔ یہ منفرد سیلفی امریکی ٹی وی CNN پردکھائی گئی ہے۔

اس غبارے کو سب سے پہلے 28 جنوری کو امریکا نے دیکھا تھا اور آخر کار اسے امریکی فوج نے جنوبی کیرولینا کے ساحل پر ملک کو عبور کرنے کے بعد مار گرایا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیر اہلکار نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ اوور فلائٹس نے "یہ بات ظاہر کی ہے کہ غبارہ انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کی کارروائیاں کرنے کے قابل تھا۔"

حکام نے کہا کہ انہوں نے غبارے کو امریکا کے اوپر نہ گرانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کے سائز کی وجہ سے اس کا ملبہ گرنے سے شہریوں یا زمین پر موجود املاک کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔

امریکی ناردرن کمانڈ اور نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) کے کمانڈر جنرل گلین وانہرک نے کہا کہ یہ غبارہ 200 فٹ لمبا تھا جس کا وزن 2000 پاؤنڈ تھا۔

حکام نے زور دے کر کہا کہ امریکا میں انٹیلی جنس معلومات کو فول پروف بنانے کے بعد اس غبارے کے لیے جاسوسی کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔

فضائیہ کے مطابق U-2 ایک سیٹ والا اونچائی پر اڑنے ولا اور نگرانی کرنے والا طیارہ ہے جس میں "گلائیڈر جیسی خصوصیات" ہیں۔

چونکہ طیارہ مستقل بنیادوں پر 70,000 فٹ سے زیادہ کی بلندی پر پرواز کرتا ہے، اس لیے پائلٹوں کو "خلائی مسافروں کی طرح پہننے والا مکمل پریشر سوٹ پہننا ہوگا۔"

بدھ کو جاری کی گئی تصویر میں واضح طور پر پائلٹ کو غبارے کے اوپر اڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ آخری بار غبارے کو مونٹانا کے اوپر 60,000 فٹ کی بلندی پر اڑتے دیکھا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں