انور سادات کے پاسپورٹ کی امریکا میں ہزاروں ڈالر کی بولی، بیٹی نیلام سے لا علم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کے ’’ہیرٹیج‘‘ نامی نیلام گھر نے مصر کے سابق صدر انور سادات کا سفارتی پاسپورٹ عوامی نیلامی میں فروخت کے لیے پیش کر بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

امریکا میں ایک عوامی نیلامی میں سابق مصری صدر کے پاسپورٹ کی نیلامی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا پر اس پرایک نئی بحث جاری ہے۔

سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کیا انور سادات کا پاسپورٹ بیرون ملک کیسے پہنچا اور نیلامی ہال میں اسے پہنچانے اور اس کی فروخت کے پیچھے کون ہے؟

نیلام گھر کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ایک پاسپورٹ ہے اور اس پر نمبر 1 درج ہے۔ اسے 19 مارچ 1974 کو جاری کیا گیا تھا اور یہ 18 مارچ 1981 تک کارآمد رہا۔

مرحوم انوار السادات کے پاسپورٹ کا عکس

پاسپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ سابق مصری صدر نے اس پاسپورٹ پر سنہ 1978ء میں امریکا کا دورہ کیا تھا۔ یہ ایک تاریخی دورہ تھا جس میں انہوں نے سابق امریکی صدر جمی کارٹر سے ملاقات کی تھی۔ اسی دورے میں انور سادات اور اسرائیلی وزیر اعظم نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پاسپورٹ کےباربار استعمال سے یہ تھوڑا خراب بھی ہوا ہے اور اس کے بعض اوراق پھٹے ہوئے ہیں۔

انور سادات کا پاسپورٹ 48 صفحات پر مشتمل ہے جسے عربی اور فرانسیسی دونوں زبانوں میں پرنٹ کیا گیا تھا جب کہ نیلام گھر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ پاسپورٹ 47,000 ڈالر کی بڑی قیمت میں فروخت کیا ہے۔

دوسری طرف مقتول مصری صدر کی صاحبزادی رقیہ سادات نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتیں۔ وہ حیران ہیں کہ ان کے والد کا پاسپورٹ نیلامی ہال میں کیسے پہنچا اور اسے عوامی نیلامی میں کیسے بیچا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کریں گی اور یہ پتہ چلائیں گی کہ پاسپورٹ کس نے نکالا۔ اسے نیلامی ہال میں کس نے بیچا۔ کس نے خریدا اور اس واقعے میں شریک تمام افراد کا پتا چلائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں