انورسادات کے پاسپورٹ کی نیلامی کی پارلیمانی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کے سابق صدر انور سادات کا پاسپورٹ امریکا میں نیلامی میں فروخت ہونے کے بعد مرحوم کے خاندان نے اس واقعے کی پارلیمانی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مقتول انور سادات کے پوتے اور رکن پارلیمنٹ کریم طلعت سادات نے حکومت اورپارلیمنٹ کو ہنگامی مکتوب میں اپنےانور سادات کے پاسپورٹ کی نیلامی کی تحقیقات اور پاسپورٹ ملک سے باہر لے جانےمیں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سادات کے پوتے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم صدر نے اپنی پوری زندگی ملک کے لیے خدمت کی۔ یہ قطعا مناسب نہیں کہ ان کا پاسپورٹ کسی غیر ملکی نیلام گھر میں فروخت کرایا جائے کیونکہ یہ ایک ایسی توہین ہے جسے ان کا خاندان اور مصری عوام کو انور سادات سے محبت کرتے ہیں قبول نہیں کریں گے۔

سادات کے پوتے نے زور دے کر کہا کہ صدر سادات کے پاسپورٹ کی تصاویر کے پھیلاؤ اور غیر ملکی نیلامی میں اس پیشکش کی خبروں نے سوشل میڈیا پرصارفین کو سخت برہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مصری انور سادات کی بھرپور تاریخ کو ذلت آمیز انداز میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہم اس کی تحقیقات کرائیں گے ۔"

رکن پارلیمنٹ نے سوال کیا کہ پاسپورٹ مصر سے کیسے نکلا؟ حالانکہ صدرکی ملکیت اور استعمال میں رہنے والی چیزیں صرف میت ابوالکوم میوزیم، فرعونی ولیج اور اسکندریہ کی لائبریری میں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے خاندان کا پاسپورٹ کی نیلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کریم السادات نے وزارت خارجہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ پاسپورٹ کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کے لیے فوری مداخلت کریں اور اس میں ملوث اہلکاروں کا احتساب کریں۔

’ہیریٹیج‘ نامی ایک امریکی نیلام گھر نے ایک عوامی نیلامی میں مصری صدر کا سفارتی پاسپورٹ فروخت کے لیے پیش کر کے اپنے لوگوں کو حیران کردیا تھا۔

امریکہ کے ’’ہیرٹیج‘‘ نامی نیلام گھر نے مصر کے سابق صدر انور سادات کا سفارتی پاسپورٹ عوامی نیلامی میں فروخت کے لیے پیش کر بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

امریکا میں ایک عوامی نیلامی میں سابق مصری صدر کے پاسپورٹ کی نیلامی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا پر اس پرایک نئی بحث جاری ہے۔

سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کیا انور سادات کا پاسپورٹ بیرون ملک کیسے پہنچا اور نیلامی ہال میں اسے پہنچانے اور اس کی فروخت کے پیچھے کون ہے؟

نیلام گھر کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ایک پاسپورٹ ہے اور اس پر نمبر 1 درج ہے۔ اسے 19 مارچ 1974 کو جاری کیا گیا تھا اور یہ 18 مارچ 1981 تک کارآمد رہا۔

پاسپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ سابق مصری صدر نے اس پاسپورٹ پر سنہ 1978ء میں امریکا کا دورہ کیا تھا۔ یہ ایک تاریخی دورہ تھا جس میں انہوں نے سابق امریکی صدر جمی کارٹر سے ملاقات کی تھی۔ اسی دورے میں انور سادات اور اسرائیلی وزیر اعظم نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پاسپورٹ کےباربار استعمال سے یہ تھوڑا خراب بھی ہوا ہے اور اس کے بعض اوراق پھٹے ہوئے ہیں۔

انور سادات کا پاسپورٹ 48 صفحات پر مشتمل ہے جسے عربی اور فرانسیسی دونوں زبانوں میں پرنٹ کیا گیا تھا جب کہ نیلام گھر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ پاسپورٹ 47,000 ڈالر کی بڑی قیمت میں فروخت کیا ہے۔

دوسری طرف مقتول مصری صدر کی صاحبزادی رقیہ سادات نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتیں۔ وہ حیران ہیں کہ ان کے والد کا پاسپورٹ نیلامی ہال میں کیسے پہنچا اور اسے عوامی نیلامی میں کیسے بیچا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کریں گی اور یہ پتہ چلائیں گی کہ پاسپورٹ کس نے نکالا۔ اسے نیلامی ہال میں کس نے بیچا۔ کس نے خریدا اور اس واقعے میں شریک تمام افراد کا پتا چلائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں