مصرمیں سیاحت کےفروغ کے لیے نجی شعبے سے مدد لینے کا فیصلہ

طویل انتظارکے بعد رواں سال کے آخر تک عجائب گھرکے افتتاح کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری وزیر سیاحت نے کہا ہے کہ ان کا ملک سیاحتی مقامات کو فعال کرنے کے لیے نجی کمپنیوں کی مدد لینے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2023ء کے آخر میں عظیم الشان مصری میوزیم کو زائرین کے لیے کھولنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ مصر اگلے پانچ سال میں سیاحت کو سالانہ 30 فیصد تک بڑھانا چاہتا ہے۔

سیاحت مصری معیشت میں زرمبادلہ کے حصول اور روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے جسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس شعبے نے جون 2022ء میں ختم ہونے والے مالی سال میں 10.75ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی جواس سے پچھلے سال 2021ء کے مقابلے میں 4.86 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ 2021ء یہ کرونا وبا کی لپیٹ میں گذرا۔

مصری وزیر سیاحت و نوادرات احمد عیسیٰ نے اعتراف کیا کہ مصرعالمی سیاحتی مقامات کا حامل ملک ہونے کے باوجود سیاحت کا حصہ عالمی سیاحتی منڈی میں صرف 1 فی صد سے بھی کم ہے۔

مالی سال 2021-2022 میں دو ہزار سے زیادہ آثار قدیمہ کے مقامات اور 41 عجائب گھروں کے لیے ایک معمولی بجٹ مختص کیا گیا تھا جس کی رقم 3.2 ارب مصری پاؤنڈز یا امریکی کرنسی میں 170 ملین ڈالر تھی۔

انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں مصر اس کا مستحق ہے اور توقع ہے کہ وہ اگلی دہائی میں مسلسل اپنے سیاحت کے شعبے کو 25 سے 30 فیصد سالانہ ترقی دے گا۔ یہ 2028 تک ہمیں تقریباً 30 ملین (سیاحوں) تک لے جائے گا۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر سیاحت نے کاہ کہ یہ ایک ایسی پراڈکٹ ہے جو ان تمام پروڈکٹس میں سب سے زیادہ قابل اعتماد مسابقتی فوائد کی حامل ہے جسےمصر عالمی سطح پر پیش کر سکتا ہے۔

احمد عیسیٰ نے کہا کہ فوری ترجیحات میں پروازوں کی تعداد میں اضافہ اور ریگولیٹری طریقہ کار کو آسان بنا کر سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال دو لاکھ 12 ہزار کمرےسیاحتی مقاصد کے لیے بک کیے گئے اور 2028ء تک ہوٹلوں کے سیاحتی کمروں کی تعداد نصف ملین تک لے جانے کا ہدف رکھتےہیں۔اس ہدف سے توقع ہے کہ 30 ارب ڈالر کی سرماریہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات میں الجیزا گورنری اور اس میں موجود اہرام، قاہرہ کے مرکز میں مصری میوزیم اور عظیم مصری میوزیم شامل ہیں۔ ان میں جلد ہی سیاحوں کی توجہ کے لیے آثار قدیمہ کے نمونے رکھے جائیں گے۔

عیسیٰ نے کہا کہ ہم آج اس تجربے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ہم اس سے سبق حاصل کر سکیں اور اسے اگلے درجے تک لے جا سکیں اور اس کو وسعت دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں