ہوائی اڈے پرمعذور نوجوان خود کو گھیسٹ کربس تک لےجانے پر مجبور

فضائی کمپنی کے غیرانسانی رویے اور مجرمانہ غفلت کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا پرایک فالج زدہ معذور شخص کی اپنے آپ کو گھیسٹ کر بس میں سوار ہونے کے واقعے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پرہل چل پیدا کردی اور اس واقعے پر صارفین کی طرف سے غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے معذور نوجوان کے ساتھ توہین آمیز سلوک پر فضائی کمپنی سے اس کی وضاحت طلب کرنے اور ملازمین کی طرف سے اس کی مدد میں ناکامی کی وجہ سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ کی ویب سائٹ پر شائع اس خبراور ویڈیو کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 27 سالہ معذور شخص ’اسپینسر واٹس‘ 17 فروری کو کینری جزیرے میں خاندان کے ساتھ تعطیلات گذار کر واپس آرہا تھا کہ برسٹل سے آنے والی اس کی پرواز کا رخ غیر متوقع طور پر برمنگھم کی طرف موڑ دیا گیا۔

وہیل چیئر استعمال کرنے والے نوجوان نے کہا کہ اس نےجہاز سے اترتے وقت عملے کو بتایا کہ اسے بس تک پہنچنے میں مدد کی ضرورت ہے، پرواز کے عملے کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی اور کہا گیا کہ اس کی مدد کا بندو بست کرلیا گیا ہے۔ واٹس نے دعویٰ کیا کہ اسے یقین دہانی کے باوجود اور اس کے اہل خانہ کو ٹرمینل میں مناسب نقل و حمل کی سہولیت دستیاب نہیں تھی۔

دو بچوں کے والد دفتر گئے جہاں ایک کونسلر نے کہا کہ ایوی ایشن پولیس نے زمینی عملے کونہیں بتایا کہ واٹس کو اضافی مدد کی ضرورت ہے۔

تکلیف دہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ معذور شخص اپنے جسم کو زمین کے ساتھ گھسیٹنے کے لیے اپنے ہاتھوں اور بازوؤں کا استعمال کررہا ہے۔

کمپنی نے الزام لگایا کہ برمنگھم ایئرپورٹ پہنچنے پر فلائٹ کے عملے نے خصوصی مدد کی درخواست کی۔ واٹس نے کہا کہ یہ تجربہ "ذلت آمیز" تھا۔"عملے کے لوگ جانتے تھے کہ اس جہاز میں وہیل چیئر پرایک مسافر آیا ہے جسے جہاز کے اندر اور باہر مدد کی ضرورت ہے۔ جب بس تک پہنچنے میں مجھے مدد نہ ملی تومیرے پاس کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ میں اس قدر شرمندہ اور خود کو ذلیل محسوس کررہا تھا کہ لوگ میرا تماشا دیکھ رہے تھے اور میں معذوری کےعالم میں خود کو گھیسٹنے پرمجبور تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں