امارات کے خلاباز عرب دنیا کے پہلے طویل تاریخی خلائی مشن پر روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے خلاباز سلطان النیادی جمعرات کو کامیابی کے ساتھ یو اے ای کے تاریخی خلائی مشن پر روانہ ہو گئے۔ یہ مشن عرب دنیا کا سب سے پہلا طویل خلائی مشن ہوگا۔

جمعرات کو فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سنٹر سے خلائی جہاز کو کامیابی سے اتارا گیا، جہاں سے فالکن راکٹ مشرقی ساحل کی طرف ہوگیا۔

سلطان النیادی خلا میں اڑان بھرنے والے صرف دوسرے اماراتی خلاباز ہیں۔

کیپسول اب تقریباً 7500 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے۔

ناسا نے 9.50 اے ایم کے فوراً بعد تصدیق کی کہ خلابازوں کو لے جانے والا ڈریگن اور فالکن 9 کامیابی سے الگ ہو گئے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد، النیادی نے لائیو فیڈ پر خلا سے ایک پیغام میں کہا: "میرے والدین کا شکریہ، میرے خاندان کا، ہماری قیادت کا شکریہ اور ہر اس شخص کا شکریہ جنہوں نے ہمیں تربیت دی اور اس مشن کے لیے تیار کیا۔"

دبئی اور متحدہ عرب امارات کے عوامی مقامات ، اسکولوں اور دفاتر میں اس مشن کو براہ راست نشر کیا گیا۔

چار رکنی عملے پر مشتمل اس مشن کو جمعہ کی صبح، لانچ کے تقریباً ساڑھے 24 گھنٹے بعد، زمین سے اوپر تقریباً 250 میل (420 کلومیٹر) کے مدار میں چکر لگاتے ہوئے، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچنا چاہیے۔

ناسا اور سپیس ایکس نے پیر کے روز پہلی کریو-6 لانچ کی کوشش کو روک دیا تھا۔ تاہم فالکن 9 راکٹ کو ایک تکنیکی مسئلے کو حل کرنے کے بعد بدھ کو لانچ کے لیے گرین لائٹ دی تھی۔

مسئلہ ایک اگنیشن فلوئڈ کا تھا جسے ٹرائی ایتھائل الومینیم ٹرائی ایتھائل بورون کہا جاتا ہے، جو راکٹ کے مرلن انجنوں کو چالو کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ایک بھاری فلٹر سیال کو ضروری کمپارٹمنٹ میں مناسب طریقے سے بھرنے سے روک رہا تھا۔

ناسا کے مطابق "ڈیٹا اور گراؤنڈ سسٹم کا مکمل جائزہ لینے کے بعد سپیس ایکس ٹیموں نے فلٹر کو تبدیل کیا، سیال گزرنے والی لائن کو نائٹروجن سے صاف کیا، اور تصدیق کی کہراکٹ اگلی لانچ کی کوشش کے لیے تیار ہے،‘‘

کریو سکس لانچ میں ناسا کے دو خلاباز، مشن کمانڈر اسٹیفن بوون اور پائلٹ وارن ہوبرگ، متحدہ عرب امارات کے النیادی، اور روس کے آندرے فیدیاوف شامل ہیں، جو خلائی اسٹیشن کی سائنس مہم کے لیے ماہرین کے طور پر کام کریں گے۔

خلاباز چھ ماہ کے سائنس مشن کے دوران خلاء میں انسانی خلیوں کی نشوونما سے لے کر مائیکرو گریوٹیی میں آتش گیر مادوں کو کنٹرول کرنے تک کے تجربات کریں گے۔


41 سالہ النیادی، یو اے ای سے خلاء میں جانے والے دوسرے خلاباز ، جبکہ پہلے اماراتی ہیں جو امریکی سرزمین سے طویل خلائی مشن کا حصہ بنے۔ پانچ سال قبل ، پہلے اماراتی خلاباز حزاء المنصوری کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔

متحدہ امارات کا ایک خلائی جہاز اس وقت مریخ کے گرد چکر لگا رہا ہے، اور ایک منی روور بھی چاند پر بھیجا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دو نئے خلاباز ہیوسٹن میں ناسا کے خلابازوں کے ساتھ تربیت لے رہے ہیں۔

عرب دنیا سے ، سعودی شہزادہ سلطان بن سلمان خلاء میں جانے والے پہلے شخص تھے جنہوں نے 1985 میں شٹل ڈسکوری پر سفر کیا تھا۔ ان کے دو سال بعد شام کے خلاباز محمد فارس نے روس کی طرف سے لانچ کيے گئے شٹل پر سفر کیا تھا۔ دونوں تقریباً ایک ہفتہ خلا میں رہے تھے۔

النیادی اس موسم بہار میں دو سعودی خلابازوں کے ساتھ شامل ہوں گے جو سعودی حکومت کی طرف سے ایک مختصر نجی سپیس ایکس پرواز پر خلائی سٹیشن پر جا رہے ہیں۔

انہوں نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ پہلی بار خلا میں ایک ساتھ تین عربوں کا ہونا واقعی دلچسپ اور تاریخی واقعہ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں