ایران:اسکول طالبات سے مظاہروں میں شرکت پر انوکھاانتقام ؛فحش مواددیکھنے پرمجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں سکیورٹی فورسزاسکول کی طالبات کو لازمی سیشنزکے دوران میں فحش ویڈیوز دیکھنے پر مجبورکررہی ہیں۔اس مذموم عمل کا مقصد حکومت مخالف مظاہروں میں ان کی شرکت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

اس بات کا انکشاف غیرملکی خبررساں ادارے 'ایران وائر' نے ایک رپورٹ میں کیا ہے۔اس میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تہران کے اضلاع 4 اور 5 کے ساتھ ساتھ بندرمہشہرمیں لازمی سیشن منعقد کیے ہیں، جہاں اسکول کی طالبات کو فحش ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ انھیں قائل کیا جاسکے کہ حکومت کے خلاف احتجاج ایران میں جنسی زوال کا باعث بنے گا۔

رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ بندرمہشہرکے شہید ریحان النبی اسکول میں لڑکیوں کے ایک گروپ نے اکتوبر میں اسکول کے صحن میں ایرانی نظام کے خلاف نعرے لگائے تھے۔پھر انھیں ایسی ویڈیوز دیکھنے پر مجبورکیا گیا جن میں انسانوں اور جانوروں کے درمیان جنسی اختلاط کے مناظر بھی شامل تھے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران میں پاسداران انقلاب اور ان کی نیم فوجی شاخ بسیج کے ارکان نے مبیّنہ طور پر تہران کے چوتھے اور پانچویں ضلع میں لڑکیوں کے اسکولوں کا دورہ کیا ہے اورانھیں مظاہروں میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے مخرب الاخلاق ویڈیوز دکھائی ہیں۔

رپورٹ میں صحافی اور تعلیمی ماہرنجات بہرامی کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ تہران کے تین ہائی اسکولوں میں زیرتعلیم طالبات کے والدین نے سادہ کپڑوں میں ملبوس مرد ایجنٹوں کے تعلیمی اداروں میں آنے اور فحش مواد دکھانے کی اطلاع دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاندانوں کے ایک گروپ نے تہران کے ایک اسکول کے پرنسپل اور جنرل ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن سے باضابطہ شکایت کی اور اپنی بیٹیوں کو ادارے سے نکالنے کی دھمکی دی۔تاہم، محکمہ تعلیم نے مبینہ طور پرطالبات اور ان کے اہل خانہ دونوں کو ممکنہ نتائج کے بارے میں متنبہ کیا، جس میں سکیورٹی فورسزکواطلاع دینے کا امکان بھی شامل ہے۔

ایران بھر میں اسکولوں کی طالبات مہسا امینی کی گذشتہ سال ستمبر میں پولیس کے زیرحراست موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں شامل ہوئی ہیں۔سوشل میڈیا پرمتعدد ویڈیوز میں انھیں حجاب اتارتے اور اسکول کے احاطے سمیت حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

گذشتہ تین ماہ کے دوران میں ایران میں اسکولوں کی طالبات میں سانس لینے میں دشواری کے سیکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور بعض طالبات کو تو اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ایران کے ایک قانون ساز نے بدھ کے روز یہ انکشاف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں دو مختلف شہروں میں اسکولوں کی قریباً 1200طالبات کو زہر دیا گیا ہے۔

ممتازکارکنوں سمیت کچھ ایرانیوں نے حکومت پراس زہرخورانی الزام عائد کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیے گئے حملے ہیں اور احتجاج میں حصہ لینے کی پاداش میں اسکول کی طالبات سے اس شکل میں انتقام لیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں