زلزلے سے بچ جانے والے دو شامی بہن بھائیوں کی امارات میں ہنگامی سرجری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹروں نے فروری کے تباہ کن زلزلے میں ملبے تلے دب جانے کر زخمی ہونے والے بہن بھائیوں کی زندگی بچانےکے لیے ہنگامی سرجری کی ہے۔

9 سالہ شام اور اس کے 15 سالہ بھائی عمر کو ادلب، شام کے قریب ایک عمارت کے ملبے سے 6 فروری کو زلزلے کے بعد نکالا گیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایم نے بدھ کو خبر دی کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے بہن بھائیوں کو علاج کے لیے ابوظہبی کے برجیل ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

جسم کے نچلے حصے میں پھیلنے والے گینگرین سے شام کی جان کو خطرہ تھا۔

ایجنسی کے مطابق مادر ملت شیخہ فاطمہ نے اس میڈیکل مشن کی ہدایت کی تھی۔

خاندان کے ایک فرد بشر علیق نے کہا کہ "استنبول میں طبی عملے نے ہمیں بتایا کہ شام کو لگنے والی چوٹوں کے نتیجے میں اس کے اعضاء کاٹنے کی ضرورت ہے، اور اس لیے کہ اسے بروقت ضروری علاج نہیں مل سکا۔"

"اس کے والد نے ڈاکٹروں کی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ پھر، اس کے بعد ہمیں بے حد خوشی ہوئی جب ہمارے لیے خصوصی طبی عملے کے ہمراہ ایک نجی طیارے میں امارات جانے کا فیصلہ کیا گیا، اب ہمیں یقین ہے کہ ہم اچھے ہاتھوں میں ہیں اور صورتحال بہت بہتر ہو جائے گی۔"

اے ایف پی کے حالیہ سروے کے مطابق ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں 50,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
شام بھر میں کل 5,951 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ترکی میں 6 فروری کے زلزلے کے بعد 44,374 افراد ہلاک ہوئے۔

تاہم نئے اعداد وشمار کے مطابق دونوں ملکوں میں اس آفت سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 50,325 تک پہنچ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں