کیا بھارت روس سے خام تیل مغرب کی حد سے بھی کم قیمت پرخریدکررہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ کے سینیرعہدے داروں نے کہا ہے کہ واشنگٹن بھارت کے روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پراب تک مطمئن ہے، وہ بھارتی حکام سے رابطے میں ہے اورنئی دہلی مغرب کی مقررکردہ حد قیمت سے بھی نیچے روس سے خام تیل خرید کررہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے روس سے خام تیل کی خریداری امریکا اوربھارت کے درمیان مسلسل بات چیت کا موضوع ہے کیونکہ واشنگٹن روس کو یوکرین پر حملے کے لیے درکارآمدن سے محروم کرنا چاہتا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے عہدے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بریفنگ دی ہے اورکہا کہ یہ بھارتی معیشت اور تیل کی منڈیوں کے استحکام دونوں کے لیے اچھا ہے کہ بھارت مغرب کی حد سے زیادہ رعایت پر خام تیل خرید کررہا ہے۔

انھوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں ہیں۔وہ یوکرین میں روس کی جارحیت کی مذمت اور عالمی خوراک اور توانائی کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت کے روس کے ساتھ قریبی تاریخی،دفاعی اور سفارتی تعلقات استوار ہیں اوراس نے اقوام متحدہ میں روس کی یوکرین میں جنگ کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے، یہاں تک کہ کچھ سینیرعہدے داروں نے اس حملے اور ترقی پذیر ممالک پراس کے اثرات پر تنقید کی ہے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران میں درآمدات پرمنحصر بھارت نے رعایتی خام تیل کے ذریعے پیش کردہ مواقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔ایک سال پہلے،اس نے روس سے کوئی تیل نہیں خریدکیاتھا۔آج ، جنوبی ایشیائی مارکیٹ ماسکوکے لیے اہم بن گئی ہے،جس کے نتیجے میں تیل کے دوسرے برآمد کنندگان کو بے دخل کردیا گیا ہے۔چین کرونا وائرس کے ردعمل میں طویل لاک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کھل چکا ہے لیکن اس کے باوجودتیل کی مارکیٹ میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

تاہم، کم قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کی بھارت کی صلاحیت کو اب سخت چیلنج درپیش ہے۔ریفائنری اور بینکنگ ایگزیکٹوز نے بتایا کہ روس سے تیل درآمدات کو گروپ سات کی جانب سے عایدکردہ 60 ڈالر فی بیرل کی حد کے مطابق ثابت کرنے کے لیے اب اضافی اقدامات اور تصدیق کی ضرورت ہے جس سے خریداری پر اثر پڑسکتا ہے۔

عہدے داروں نے کہا کہ امریکاکو توقع ہے کہ جی 20 ممالک کی بھاری اکثریت روس کی جنگ کے خلاف کھڑی رہے گی ، روس اور چین الگ تھلگ ممالک کے طورپررہیں گے اور وہ یہ توقع کرتے ہیں کہ وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد حتمی بیان میں وہ زبان نظرآئے گی جو اس موقف کی عکاسی کرتی ہے۔

عہدے داروں نے بتایا کہ امریکااس معاملے کو جی-20 اجلاس کے موقع پراٹھانے کاارادہ رکھتا ہے۔اس گروپ میں امریکا کے قریبی اتحادیوں اور شراکت داروں کے علاوہ دیگر ممالک بھی شامل ہیں اور انھیں اس نے پہلے ہی اس معاملے کے بارے میں آگاہ کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں