امریکہ نے مزید 37 کمپنیوں کو ٹریڈ بلیک لسٹ میں شامل کرلیا

روسی فوج کی حمایت کرنے اور چین اور میانمار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں مدد پر اقدام کیا: امریکی محکمہ تجارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی فوج کے لیے فوجی تعاون کو روکنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر امریکی محکمہ تجارت نے اعلان کیا کہ اس نے مزید 37 اداروں کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جن کی سرگرمیوں میں روسی فوج کو تعاون فراہم کرنا اور چینی فوج کی مدد کرنا شامل ہے۔ مزید یہ ادارے میانمار اور چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سہولت کاری کرتے رہے یا ان خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں۔ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری خارجہ تھیا کنڈلر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب ہم ایسے اداروں کی نشاندہی کرتے ہیں جو ہمارے ملک کے لیے تشویش کا باعث ہیں تو اس کی وجہ قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی سے متعلق ہوتی ہے ۔ اس لیے ہم ان کو اداروں کو اس فہرست میں شامل کر رہے ہیں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہم ان کے لین دین کی جانچ کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی کمپنیاں کو روک دیا جاتا ہے کہ وزارت تجارت کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کو اس وقت تک ٹیکنالوجی فروخت نہ کی جائے جب تک کہ ان کے پاس غیر معمولی برآمدی لائسنس نہ ہو ۔ چین کی جینیٹک کمپنی ’’ بی جی آئی‘‘ اور چینی کلاؤڈ کمیپوٹنگ فرم ’’ انسپر‘‘ بھی بلیک لسٹ میں شامل ہوگئی۔ ان کمپنیوں میں روس کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

واضح رہے بلیک لسٹ کا اعلان اس وقت کیا گیا جب امریکہ بیجنگ اور ماسکو کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہو گیا ہے۔ خاص طور پر فروری 2022 میں شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتین کے ایک بیان پر پر دستخط کرنے کے بعد جس میں چین اور روس کی شراکت داری کو "لامحدود" قرار دیا گیا تھا۔ یہ اقدامات 24 فروری کو یوکرینی سرزمین پر ماسکو کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں ایک طرف چین امریکی کشیدگی اور دوسری طرف روسی امریکی کشیدگی میں اضافہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ چین نے روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے۔ بلکہ اس نے نیٹو اور مغرب کو ماسکو کو مشتعل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور نیٹو اور مغرب پر روس کی سلامتی اور تزویراتی خدشات کو خاطر میں نہ لانے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ حال ہی میں امریکی انتباہات کے باوجود بیجنگ کی جانب سے روسی فوج کی مدد کی سرگرمیو ں میں سنجیدہ شمولیت کے متعلق بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں