روس کے جنگی مجرم بچ نہیں پائیں گے۔ امریکی اٹارنی جنرل کا یوکرین کا اچانک دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے جمعہ کو یوکرین کا اچانک دورہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ "روس کے جنگی مجرموں کو ان کے جرائم کے لیے جوابدہ" ٹھہرائیں گے۔

گارلینڈ نے کہا کہ "ہم واضح طور پر آج یہاں یوکرین کے ہم آواز ہیں کہ ان جرائم کے مرتکب بچ نہیں پائیں گے۔"

وہ اپنے یوکرینی ہم منصب کی دعوت پر "یونائیٹڈ فار جسٹس کانفرنس" میں شرکت کے لیے مغربی یوکرین کے شہر ''لفیف'' پہنچے ہیں۔

گارلینڈ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یوکرین کے جنگی جرائم کے تفتیش کاروں کے ساتھ کھڑا ہے جو روسی حملوں کی شواہد اکٹھے کررہے ہیں اور انہیں کیٹلاگ کرتے ہیں۔ ان میں ہسپتال، رہائشی عمارتیں ، اسکول ، اجتماعی قبریں اور انسانی باقیات شامل ہیں''

انہوں نے کہا کہ روس اس وقت دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کسی بھی تنازعے کے دوران کیے گئے جرائم سے زیادہ بڑے پیمانے پر مظالم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے یوکرین، لتھوانیا، پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا، سلوواکیہ اور رومانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں "جو روسی جنگی مجرموں کا احتساب کرنے کی ہماری کوششوں کو تقویت دے گا۔"

فروری 2022 میں روس یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد یہ گارلینڈ کا یوکرین کا دوسرا دورہ ہے جس کا سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر وقت سے پہلے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

یہ دورہ امریکی صدر جو بائیڈن کے یوکرین کے دورے اور صدر ولادی میر زیلنسکی سے ملاقات کے تقریباً دو ہفتے بعد کیا گیا ہے۔

امریکہ یوکرین کی جنگی جرائم کی تحقیقات میں مدد کر رہا ہے اور اس ہفتے گارلینڈ نے روس کی کرائے کے فوج ''ویگنر ملٹری فورس'' کے سربراہ ''ایوگینی پریگوزن'' کو جنگی مجرم قرار دیا گیا ہے۔

24 فروری کو روسی حملے کی پہلی برسی کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں، گارلینڈ نے کہا تھا کہ ان کا محکمہ "انصاف کے حصول میں ہمارے یوکرینی شراکت داروں کے ساتھ کھڑا ہے۔"

گذشتہ ماہ امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے بھی روس پر یوکرین میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ روسی افواج نے یوکرین کی شہری آبادی پر "وسیع پیمانے پر اور منظم" حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں