امریکہ نے فلسطینی گاؤں کو مٹا دینے کا بیان دینے والے اسرائیلی وزیر کا بائیکاٹ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہفتے کے روز اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن نے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے فلسطینی گاؤں ’’حوارہ ‘‘ کو مٹانے کے متعلق ان کے انتہا پسندانہ بیانات کے بعد ان کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ یہ قدم واشنگٹن کی جانب سے بدھ کے روز انتہائی دائیں بازو کے وزیر کے بیانات پر تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ سموٹریچ نے اپنے بیان میں حوارہ کو مٹا ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں کو بتایا کہ سموٹریچ کے ریمارکس گھناؤنے، غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز تھے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر کے ریمارکس کی عوامی سطح پر مذمت کریں۔ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد میں ایک انتہائی قوم پرست سموٹریچ نے یہ ریمارکس بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کے درمیان منعقد ایک کانفرنس میں کہے تھے۔

اس ہفتے کے شروع میں فلسطینی گاؤں حوارہ پر آباد کاروں کے حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر سموٹریچ نے کہا تھا میرے خیال میں حوارہ کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے، میرے خیال میں اسرائیل کو ایسا کرنا چاہیے۔ ایک رز قبل منگل کو ایک اسرائیلی جنرل نے حوارہ پر آباد کاروں کے حملے کو قتل عام قرار دیا تھا۔ اسرائیلی پولیس نے حوارہ گاؤں میں ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں 10 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ آباد کاروں کے اس حملے میں ایک فلسطینی شہید ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں