ایران کے مختلف علاقوں میں زہرخورانی کے نئے کیسوں کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے متعدد صوبوں میں اتوار کواسکول طالبات کو پراسرارطورپرزہر دینے کے مزید واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد والدین میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظرحکام سے کارروائی کا مطالبہ زورپکڑ گیاہے۔

ہفتے کے روز شائع ہونے والے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق نومبرکے آخرسے اب تک دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع مقدس شہر قم میں زہرخورانی کے سیکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ہیں اوروہاں 52 اسکولوں کی طالبات کو زہرخورانی کے حملوں کانشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے ایسنا نے مقامی صحت حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ زہر دینے کے تازہ واقعات سے مغربی شہرابہار اور جنوب مغربی شہر اہواز کے دو ہائی اسکولوں میں متعدد طالبات متاثر ہوئی ہیں۔

ملک کے مغرب میں واقع شہرزنجان کے ایک پرائمری اسکول کی طالبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ دواورخبررساں ایجنسیوں مہر اورایلنا کے مطابق شمال مشرق میں واقع مقدس شہر مشہد، وسط میں واقع اصفہان اور جنوبی شہرشیراز میں زہرخورانی کے مزید کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق درجنوں طالبات کو علاج کے لیے مقامی اسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

ایرانی صدرابراہیم رئیسی نے جمعہ کو وزیربرائے سراغ رسانی اور وزیرداخلہ کوزہرخورانی کے کیسوں کی پیروی کی ہدایت کی تھی اوران واقعات کو دشمن کی عوام میں خوف اور مایوسی پیدا کرنے کی سازش قرار دیاتھا۔

ایران کے نائب وزیرداخلہ ماجد میراحمدی نے فارس نیوزایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’لڑکیوں کو زہردینے کے منصوبہ سازاسکولوں کو بند کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے پیچھے کارفرماافراد ملک میں مزید مظاہروں کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میراحمدی نے کہا کہ زیادہ ترمتاثرہ طالبات کو’’اضطراب اورتناؤ‘‘کی وجہ سے پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔گذشتہ ہفتے ایران کے نائب وزیر صحت یونس پناہی نے بھی کہا تھا کہ زہر دینے کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم بند کرناہے۔

زہرخورانی کے ان پُراسرارواقعات نے پورے ایران کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،ان پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور پریشان حال والدین کی طرف سے حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا جارہاہے۔دارالحکومت تہران میں ایرانیوں نے ہفتے کے روز زہرخورانی کے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں