داعش کوچھوڑ کرشام سے واپس آنے والی فرانسیسی خاتون کو 10 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس کی ایک خصوصی فوجداری عدالت نے شام سے واپس آنے والی فرانسیسی خاتون کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس خاتون نے شام میں "داعش" کے زیر کنٹرول علاقوں میں پانچ سال گذارے اور اعتراف کیا کہ وہ "شہید" کے طور پر مرنا چاہتی تھی۔

جمعہ کے روز جاری فیصلے میں عدالت نے امانڈائن لی کوز کو سات سال کی مدت کے لیے سماجی اور عدالتی پیروی سے مشروط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

عدالت کے چیف جج لارینٹ رویوٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ لی کوز نے "کوششیں کی ہیں لیکن اب بھی مزید کوشش جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور وہ ان کے بیان سے متفق تھیں۔‘

پیرس سے تعلق رکھنے والی فرانسیسی خاتون کے مقدمے کی سماعت جمعرات کو ایک مجرم دہشت گرد گروہ سے تعلق کے الزام میں شروع ہوئی۔

جمعہ کے روز کیس کی سماعت کے دوران 32 سالہ لی کوز نے پہلی بار اعتراف کیا کہ اس نے "خود کو دھماکے سے اڑانے" کے بارے میں سوچا اور کہا کہ میں ایک شہید کے طور پر مرنا چاہتی تھی، ہاں، یہ ٹھیک ہے، کیونکہ مجھے جہنم سے ڈر لگتا تھا۔"

اس موقعے پر عدالت میں لوکوز کی شام میں ستمبر 2014 کی تصاویر ب بھی دکھائی گئیں۔ استغاثہ کے وکیل بنجمن چیمبر کی طرف سے پیش کی گئی تصاویر میں لوکوز کو شام پہنچنے کے بعد "داعش" تنظیم کے سیاہ جھنڈے کے ساتھ اور تین نقاب پوش افراد کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے۔قریب ہی ایک شخص کلاشنکوف اٹھائے ہوئے ہے۔ دوسری تصویر میں لی کوز کا شام میں پہلا شوہر مسکراتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس نے خود کش جیکٹ پہن رکھی ہے۔

استغاثہ کے وکیل نے پوچھا کہ"کیا آپ نے اسے لگانے میں مدد کی؟" لی کوزنے جواب دیا "نہیں، لیکن میں نے اصل میں ایک ایسی جیکٹ پہنی تھی"۔ اس نے زوردے کر کہا کہ "موت ایک شہید کے طور پر مرنا چاہتی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ بہترین عبادت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں