امریکہ نے ہمارا میزائل گرایا تو اعلان جنگ سمجھا جائےگا:بہن کم جونگ اُن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شمالی کوریا نے گزشتہ ہفتے الزام عائد کیا تھا کہ امریکہ بین الاقوامی ہتھیاروں کے کنٹرول کے نظام کے خاتمے کا سبب بن رہا ہے اور پیانگ یانگ کے جوہری ہتھیار جزرہ نما کوریا میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے منصفانہ رد عمل کے طور پر ہیں۔ شمالی کوریا کے اس بیان کے بعد سے کشیدگی میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔

اب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے جزیرہ نما کوریا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی کی وجہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں ہیں۔

بااثر خاتون نے متنبہ کیا کہ ان کے ٹیسٹ میزائلوں میں سے کسی ایک کو بھی مار گرانے کے کسی بھی اقدام کو "اعلان جنگ" سمجھا جائے گا۔ کم یو جونگ نے کہا اگر امریکہ نے ہمارے سٹریٹجک ہتھیاروں کے تجربات کے خلاف فوجی کارروائی کی تو ان کا ملک کارروائی کرے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ شمالی کوریا بحرالکاہل میں مزید میزائل داغ سکتا ہے۔ کم یوجونگ نے کہا کہ بحرالکاہل امریکہ یا جاپان کی خودمختاری کے تابع نہیں ہے۔

مضبوط خاتون کا یہ بیان شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے فارن نیوز ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ کی جانب سے پیر کے روز امریکہ پر ’’بی 52 ‘‘ بمبار طیاروں کے استعمال پر مبنی فضائی مشقیں کر کے صورتحال کو کشیدہ کرنے کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا واشنگٹن نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان میدانی مشقیں کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔

یاد رہے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کبھی بھی شمالی کوریا کے کسی بھی بیلسٹک میزائل کو گرایا نہیں ہے۔ اس طرح میزائل تباہ کرنے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کوریا بحرالکاہل کو "شوٹنگ رینج" میں تبدیل کرنے کی اپنی دھمکی جاری رکھتا ہے تو یہ صورتحال جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کو تکنیکی ترقی کرنے اور اپنی فوجی طاقت مضبوط کرنے کے قابل بنائے گی۔

واضح رہے جنوبی کوریا میں 1950 اور 1953 کے درمیان ہونے والی کوریائی جنگ کے بعد سے تقریباً 28500 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں