خواتین کا عالمی دن کیا ہے؟ آغاز کیسے اور اس سال کا موضوع ''ڈیجٹ آل'' کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دنیا بھر میں کل بدھ کو خواتین کا عالمی دن منانے کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ اس دن کو منانے کا مقصد کیا ہے ،اس سال اسے کس تھیم کے تحت منایا جارہا اور وہ کیا مسائل ہیں جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سال توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔


خواتین کا عالمی دن کیا ہے؟

خواتین کا عالمی دن خواتین کی کامیابیوں کے اعتراف اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے عزم کے اظہار کے لیے ہر سال منایا جاتا ہے۔

اس دن کی جڑیں 20ویں صدی کے اوائل کی امریکی سوشلسٹ اور مزدور تحریکوں میں پنہاں ہیں، خصوصا اس وقت جب خواتین کام کرنے کے لیے بہتر حالات اور ووٹ کے حق حاصل کے لیے لڑ رہی تھیں۔

اس دن کو باقاعدہ منانے کی ابتدا 1911 میں آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں ہوئی جب دس لاکھ سے زیادہ افراد نے خواتین کے حقوق کی حمایت کے لیے ریلی نکالی۔

اس کے بعد سے، اس دن کو منانے کا سلسلہ نہ صرف آگے بڑھتا رہا بلکہ اس کے دائرہ کار میں بھی اضافہ ہوا ہے. خواتین کے خلاف تشدد سے لے کر کام کی جگہ پر برابری تک تمام مسائل کو حقوق نسواں کے دائرہ کار میں شامل کیا جاتا ہے۔

اگرچہ کسی ایک تنظیم کے پاس اس تقریب کی ملکیت نہیں ہے تاہم اقوام متحدہ میں1977 میں اس دن کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے بعد سے عالمی سطح پر اسے منانے کا رجحان بڑھا۔

دنیا بھر میں اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ کچھ ممالک جن میں چین روس اور یوگنڈا شامل ہیں، اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔

اس سال خواتین کے عالمی دن کا موضوع کیا ہے؟

اس سال اقوام متحدہ میں یہ دن "ڈیجیٹ آل: جدت اور ٹیکنالوجی برائے صنفی مساوات" کے موضوع کے تحت منایا جارہا ہے۔

یہ تھیم اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ ٹیکنالوجی حقوق نسواں کے سلسلے میں کیسے اہم ہے اور ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتا ہوا صنفی امتیاز خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع سے لے کر آن لائن تحفظ تک ہر شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، اس وقت مردوں کے مقابلے میں 259 ملین کم خواتین کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے میدانوں میں خواتین کی نمائندگی مردوں سے کافی کم ہے۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق "خواتین کو ٹیکنالوجی میں آگے لانے کے نتیجے میں زیادہ تخلیقی حل نکلتے ہیں۔ اس سے خواتین کی ضروریات کو پورا کرنے اور صنفی مساوات کو فروغ دینے والی اختراعات اور ایجادات کا زیادہ امکان موجود ہے۔"

"اس کے برعکس ان کی عدم شمولیت سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں"

ماضی میں اس دن کے دیگر موضوعات میں موسمیاتی تبدیلی، دیہی خواتین اور ایچ آئی وی/ایڈز بھی شامل تھے۔

خواتین کا عالمی دن کیوں اہم ہے؟

اقوام متحدہ کا اس سال کا موضوع اگرچہ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ 21ویں صدی میں صنفی مساوات کی جنگ کا میدان کیا ہے، تاہم غربت اور تشدد سمیت تمام دیرینہ مسائل پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

2021 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً تین میں سے ایک خاتون اپنی زندگی کے دوران جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو خواتین کے معاشی مواقع، جنسی تعلیم تک رسائی اور تولیدی حقوق سے جڑا ہے۔

خواتین کی ابتدائی تحریک کی توجہ اگرچہ زیادہ تر سیاسی کے حقوق کے لیے لڑنے والی سفید فام خواتین پر مرکوز تھی۔
تاہم حالیہ برسوں میں، رنگ و نسل سے بالاتر تمام خواتین کے ساتھ ساتھ ٹرانس جینڈر، غیر بائنری اور صنفی لحاظ سے غیر موافق لوگوں کو شامل کرنے کے لیے بھی زور دیا گیا ہے۔

یہ دن اگرچہ خواتین کے بنیادی حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا ایک موقع ہے، وہیں منتظمین اس دن کو خواتین کی انفرادی ترقی اور کامیابیوں کا جشن منانے کے لیے بھی مناتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں