خواتین کا عالمی دن: سعودی عرب کی بااختیار خواتین کے لیے چند اہم لمحات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے ناقابل یقین اقدامات کیے ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے متعارف کردہ ویژن 2030 کے تحت وسیع تراصلاحات کا مقصد خواتین کو زیادہ سے زیادہ مواقع مہیّاکرنا اور اس ضمن میں متعدد اقدامات پر عمل درآمد کرنا ہے۔

ان اقدامات میں افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں اضافہ، قائدانہ عہدوں تک خواتین کی رسائی کوبڑھانا، تعلیم اور تربیت تک خواتین کی رسائی کو بہتربنانا، خواتین کی انٹرپری نیورشپ کو فروغ دینا اور کھیلوں اور تفریح میں خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔

یہاں صرف گذشتہ سال کے کچھ اہم لمحات کاذکرکیا جاتا ہے،جن کے دوران میں سعودی خواتین کا کردار عالمی سطح پرمزید نمایاں ہوکرسامنے آیا ہے۔

1۔پہلی سعودی خاتون خلاباز

ستمبر 2022 میں مملکت نے خلابازی کے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت ایک خاتون سعودی خلاباز کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا سفر کرتے ہوئے دیکھا جائے گا۔

فروری 2023 میں سعودی عرب نے تصدیق کی تھی کہ ریانہ برناوی 2023 کی دوسری سہ ماہی میں امریکا سے روانہ ہونے والے اے ایکس -2 خلائی مشن کے عملہ میں شامل ہوں گی۔

2۔کام کی جگہ پر خواتین

سعودی عرب کے وزیر برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے مطابق 2022 میں سعودی عرب میں خواتین کارکنان کی افرادی قوت میں شرکت 37 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔

جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 15سے 24 سال کی عمر کی خواتین سعودی شہریوں کی افرادی قوت میں شرکت دوسری سہ ماہی میں 48 فی صد سے بڑھ کر2022 کی تیسری سہ ماہی میں 50.1 فی صد ہوگئی تھی۔

سعودی عرب میں اصلاحات کےآغازاورخواتین کوافرادی قوت میں شامل کرنے پرزیادہ زوردیا گیا ہے۔سعودی خواتین افرادی قوت میں شامل ہونے اور مملکت کی معیشت میں حصہ ڈالنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بے چین ہیں۔

3۔خلابازفیڈریشن میں سینیرخاتون سربراہ

ستمبر 2022ء میں مشعال الشمیمری کو بین الاقوامی خلائی فیڈریشن (آئی اے ایف) کے نائب صدور میں سے ایک کے طور پرمنتخب کیا گیا تھا۔وہ اس قائدانہ عہدے پرفائزہونے والی پہلی سعودی شہری بن گئی تھیں۔

یہ اقدام مملکت کے قائدانہ عہدوں تک خواتین کی رسائی کوبڑھانے کے مشن کے لیے ایک بڑی پیش رفت تھا۔

ایرواسپیس انجینئر مشاعل الشميمری امریکا کے خلائی ادارے ناسا میں شامل ہونے والی پہلی سعودی خاتون بھی ہیں۔ ناسامارشل اسپیس فلائٹ سنٹر نے ان کی ماسٹر ڈگری کی تعلیم کے دوران میں نیوکلیئر تھرمل راکٹس پرتحقیق میں مالی اعانت بھی کی تھی۔اس میں انسانوں کو مریخ تک پہنچانے کے مقصد کے ساتھ جوہری میزائل کے ڈیزائن کے پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

4۔ریلوے آپریٹرسعودی خواتین

32 سعودی خواتین نے جنوری 2023 میں 12 ماہ کا ریل چلانے کا پروگرام مکمل کیا تھا۔اس سے وہ مملکت کے تیزرفتار ریل نیٹ ورک کو چلانے کی اہل ہوگئی تھیں۔

سعودی ریلوے پولی ٹیکنیک نے خواتین کو وسیع تربیت کے بعد حرمین ایکسپریس ٹرین چلانے کا اہل بنادیا ہے۔

5۔سعودی خاتون سفراء

2023ء کے آغازمیں سعودی عرب نے دنیا بھر میں مملکت کی نمائندگی کے لیے بعض نئی خواتین کا تقررکیا ہے اور اب بیرون ملک خدمات انجام دینے والی خواتین سفیروں کی تعداد بڑھ کرپانچ ہوگئی ہے۔

شہزادی ریما بنت بندرسعودی عرب کی پہلی خاتون سفیرہیں۔انھوں نے یہ عہدہ 2019 میں اس وقت سنبھالا تھا جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان کے نائب کی حیثیت سے شاہی فرمان کے ذریعے انھیں امریکا میں مملکت کی سفیرمقررکیا تھا۔

وہ سعودی فیڈریشن برائے کمیونٹی اسپورٹس کی سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پہلی خاتون بھی ہیں۔اس حیثیت میں انھوں نے کھیلوں میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے کام کیا۔

6۔باکسنگ کے بین الاقوامی مقابلے میں سعودی خاتون

رغدالنعیمی 21 فروری 2023 کوالریاض میں جیک پال بمقابلہ ٹومی فیوری کارڈ کے دوران میں افتتاحی بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کرنے والی سعودی عرب کی پہلی خاتون پروفیشنل باکسرتھیں۔

کھیلوں اورتفریح میں خواتین کی شرکت کو فروغ دینے کے لیےسعودی عرب نے خواتین کوثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کے مزیدمواقع مہیّا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں