مشرقی شام میں ایرانی میزائل گودام پر ڈرون حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مشرقی شام کے دیر الزور علاقے کو آج بروز بدھ کو ایک بار پھر نامعلوم حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دھماکے میں چار افراد جان بحق ہوگئے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے اعلان کے مطابق، یہ حملہ ایران کے وفادار دھڑوں کے زیر کنٹرول علاقے میں ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے العربیہ کو بتایا کہ حملے میں ایرانی میزائلوں کے گودام اور ہتھیاروں سے لدے ایک ٹرک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

رہائشی علاقوں پر حملہ

یہ گودام رہائشی علاقوں کے درمیان واقع ہے۔

سیریئن آبزرویٹری کے ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ عراقی سرحد سے شام میں داخل ہونے والے ٹرک کھانے کی اشیاء اور دیگر چیزوں کی آڑ میں ایرانی ملیشیا کو ہتھیار اسمگل کرتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ دھماکے کے وقت علاقے میں نامعلوم ڈرونز کی پرواز دیکھی گئی تھی۔ اور اس جگہ پر نظر آنے والی بڑی تباہی کے پیش نظر اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ دیر الزور کا دھماکہ بارودی سرنگ کی وجہ سے ہوا۔

واضح رہے کہ شامی سرکاری میڈیا نے آج دن کے آغاز میں خبر دی تھی کہ یہ حادثہ شہر کے حمیدیہ محلے میں داعش کی جانب سے بچائی گئی بارودی سرنگ کے پھٹنے سے پیش آیا۔

یہ علاقے اکثر نامعلوم حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ ان میں ایران کی حمایتی ملیشیا کے مراکز کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مبصرین نے پچھلے سال صرف دیر الزور میں ایران کے حمایتی عراقی، افغان اور پاکستانی گروپوں کے تقریباً 15,000 جنگجوؤں کی موجودگی کا اندازہ لگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں