احتجاج کے باعث امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا دورہ اسرائیل موخر

ملاقات کی جگہ بھی تبدیل ، واشنگٹن کا اسرائیل اور فلسطین سے پرامن رہنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک امریکی عہدیار نے بتایا ہے کہ وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کی اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کا مقام تبدیل ہو گیا ہے۔ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے عدالتی اصلاحات منصوبے کے خلاف اسرائیل میں مظاہروں کی حالیہ لہر کے باعث لائیڈ آسٹن کے دورہ میں قدرے تاخیر ہوگئی ہے۔ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ اسرائیلی حکومت کی درخواست پر جمعرات کو ہونے والی ملاقاتوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کو امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا استقبال کیا۔ آسٹن عراق کے اپنے اچانک دورے کے ایک دن بعد قاہرہ پہنچے تھے۔

مصری ایوان صدر کے ایک بیان کے مطابق سیسی اور آسٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مصر کے ساتھ سٹریٹجک تعاون اور شراکت داری کو آگے بڑھانے اور فروغ دینے کی امریکی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ بیان کے مطابق دونوں عہدیداروں نے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی مسائل خاص طور پر مسئلہ فلسطین پرتبادلہ خیال کیا۔ فلسطینی علاقوں میں امن قائم کرنے اور یکطرفہ اقدامات اور کشیدگی کو روکنے کے لیے بھی بات چیت کی گئی۔

بدھ کے شروع میں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی طرف ایک راکٹ فائر کیا گیا جس سے سائرن بج گئے۔ یہ راکٹ بظاہر اسرائیلی علاقے کے بجائے غزہ میں ہی گرا تھا تاہم سائرن بجنے کی وجہ سے اسرائیلی شہریوں نے پناہ گاہوں کی جانب دوڑ لگا دی۔

منگل کے روز فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی چھاپہ مار کارروائی میں چھ فلسطینیوں کےشہید ہونے کا بتایا۔ شہید ہونے والوں میں ایک اسلحہ سے لیس فلسطینی بھی شامل تھا جس پر گزشتہ ہفتے ’’ حوارہ‘‘ گاؤں میں دو اسرائیلی بھائیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کا شبہ تھا۔ اسرائیلیوں نے اسے کم از کم دس گولیاں ماریں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے فلسطینی بندوق بردار عبدالفتاح خروشہ حماس کا رکن تھا۔ اس نے 26 فروری کو دو اسرائیلی بھائیوں کو حوارہ گاؤں میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔ خروشہ کے دو بیٹوں کو نابلس شہر میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کرلیا گیا تھا۔ "حماس" اور "اسلامی جہاد" کے دو بیانات کے مطابق کہ تمام مرنے والے "فتح تحریک" سے منسلک تھے۔

اس سے کچھ دیر قبل فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ شمالی مغربی کنارے میں جنین کیمپ پر اسرائیلی فوج کی کارروائی میں ایک فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ وزارت نے کہا 26 سالہ محمد وائل غزاوی جنین کیمپ میں سینے میں زندہ گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ میں ایک گھر کو گھیرے میں لے لیا اور اسے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے نابلس شہر پر بھی چھاپہ مارا اور شہر کے پرانے عسکر کیمپ میں ایک گھر کا محاصرہ کیا اور تین بھائیوں کو گرفتار کرلیا۔

مغربی کنارے میں سال کے آغاز سے تصادم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اب تک مغربی کنارے میں بچوں اور عام شہریوں سمیت 66 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران 13 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ "تحریک الفتح" کے "الاقصی شہداء بریگیڈز" نے تصدیق کی ہے کہ اس کے ارکان نے اسرائیلی فوجیوں کا جنین میں محاصرہ کر رکھا ہے۔

کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے قابو سے باہر ہونے کا خطرہ نہ صرف فلسطینی علاقوں یا اسرائیل بلکہ خطے میں بہت زیادہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے دونوں فریقوں سے مغربی کنارے میں کشیدگی کو کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ توقع ہے کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن رواں ہفتے اسرائیل کے دورے کے دوران تشدد کا معاملہ اٹھائیں گے۔

تاہم رمضان کے آغاز اور یہودیوں کے تہوار ’’عید الفصح‘‘ سے قبل تشدد میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ مصر نے بھی جنین کیمپ میں اسرائیلی افواج کی دراندازی کی کی مذمت کی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے جنین میں آپریشن کی شدید مذمت کی ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں