امریکی خاتون اول نے " ویمن آف کریج" ایوارڈ ایرانی خواتین مظاہرین کو دیدیا

مہسا امینی کے "وحشیانہ قتل" کے بعد ایرانی خواتین اور لڑکیاں ہم سب کے لیے ایک تحریک بن گئی ہیں: گرین فیلڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بدھ، 8 مارچ کو امریکہ کی خاتون اول جل بائیڈن نے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ساتھ پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس میں "انٹرنیشنل وومن آف کریج ایوارڈ 2023" تقریب کی میزبانی کی۔ انہوں "میڈلین البرائٹ" اعزازی ایوارڈ ایرانی احتجاج کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کو دے دیا۔

امریکی فارسی بولنے والے ریڈیو "فردا" کے مطابق سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے ایک ویڈیو پیغام میں ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران ایرانی خواتین اور لڑکیوں کے حوصلے کی تعریف کی۔ ایران میں حالیہ احتجاجی تحریک ستمبر کے وسط میں کرد خاتون مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت کے بعد سے شروع ہوئے ہیں۔

تقریب میں میڈلین البرائٹ ایوارڈ پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ یہ ایوارڈ ان ایرانی خواتین اور لڑکیوں کو دیا جاتا ہے جو مہسا امینی کے وحشیانہ قتل کے بعد کھڑی ہوئیں اور ہم سب کے لیے ایک تحریک بن گئیں۔

اقوام متحدہ میں واشنگٹن کے سفیر نے مزید کہا کہ ایران میں مہسا امینی کی خواہش تھی کہ وہ ایک نارمل اور خوشگوار زندگی گزارے۔ اس نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک خاندان بنانے کا خواب دیکھا، لیکن یہ امیدیں اور خواب نام نہاد "اخلاقی پولیس" کے ظلم و ستم سے تباہ ہو گئے۔

لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے مزید کہا کہ یہ احتجاجی تحریک ایک امید کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایرانی حکومت نے ان مظاہروں پر کس طرح ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، دسیوں ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جبر پر مبنی کارروائیوں میں ایرانیوں کو ہلاک کیا۔ عالمی برادری کو حکومتی جبر اور تشدد کی مذمت جاری رکھنی چاہیے۔

لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے ایران بھر کی تمام خواتین اور لڑکیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جان لو کہ ہم ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ کی جنگ میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے یہ ایوارڈ دنیا بھر کی ان خواتین کو دیتا ہے جنہوں نے مثالی جرأت کا مظاہرہ کیا ہو۔ اس سال سترہویں سال یہ ایوارڈ دئیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں