اقوام متحدہ یمن میں بحری جہاز ’’ صافر‘‘ کو خالی کرنے کیلئے آئل ٹینکر خریدے گی

ریڈ سی میں موجود بحر ی جہاز خستہ حال تھا، اقوام متحدہ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اقوام متحدہ نے جمعرات کی شام اعلان کیا کہ اس نے یمن کے مغربی ساحل پر ’’راس عیسیٰ‘‘ بندرگاہ کے قریب لنگر انداز ہونے والے خستہ حال "صافر" ٹینکر کو خالی کرنے کے لیے تیل ذخیرہ والے ایک بڑے آئل ٹینکر کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایک پریس بیان میں بتایا کہ ڈویلپمنٹ پروگرام ’’یو این ڈی پی‘‘ نے ’’یوروناو ‘‘کمپنی کے ساتھ جہاز کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ کمپنی سمندری نقل و حمل اور خام تیل کی ذخیرہ اندوزی کے شعبے میں کام کرتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ متبادل جہاز اب یمن میں راس عیسیٰ سے 9 کلومیٹر کے فاصلے پر لنگر انداز ہونے والے ’’صافر ‘‘ٹینکر کے لیے روانہ ہونے سے پہلے ایڈجسٹمنٹ اور باقاعدہ دیکھ بھال کے مراحل میں ہے۔ بیان میں کا گیا کہ امید ہے کہ متبادل جہاز مئی کے شروع میں پہنچ جائے گا تاکہ آف لوڈنگ کا عمل شروع ہو سکے۔

بحر احمر میں موجود بحری جہاز صافر
بحر احمر میں موجود بحری جہاز صافر

اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ یہ قدم اس عمل کے ایک حصے کے طور پر اٹھایا گیا ہے جو اقوام متحدہ کی طرف سے ایک تباہ کن تیل کے اخراج کو روکنے کے لیے جاری ہے۔ اس بحری جہاز ’’صافر‘‘ سے انسانی اور ماحولیاتی بحران کا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ نے تصدیق کی کہ بحری جہاز سے تیل کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے لیے ابھی بھی فنڈنگ کی فوری ضرورت ہے۔

بیان میں اشارہ دیا گیا ہے کہ " یو این ڈی پی " SMIT نامی میرین سالویج کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرکے تیل کو محفوظ طریقے سے ہٹانے اور ٹینکر کو لے جانے کے لیے تیار کرنے کے لیے ایک ہائی رسک آپریشن کرے گا۔

بیان میں پروگرام کے ڈائریکٹر اچیم سٹینر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مناسب جہاز کی خریداری اقوام متحدہ کے مربوط منصوبے کے آپریشنل مرحلے کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے تاکہ تیل کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکتے اور بڑے پیمانے پر ماحولیاتی اور انسانی ہمدردی کے خطرات سے بچا جا سکے۔ سٹینر نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے 7 مارچ تک 95 ملین ڈالر کے وعدے حاصل کیے تھے جن میں سے 75 ملین ڈالر موصول ہو چکے ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ اس منصوبے کے ہنگامی مرحلے کے لیے کل بجٹ 129 ملین ڈالر ہے۔

دوسری طرف امریکہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے ایک ٹینکر خریدنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ۔ اس ٹینکر سے یمن کے قریب تیرتے محفوظ ذخائر سے 1.1 ملین بیرل تیل اتارنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’صافر‘‘ ٹینک کو خالی کرنے کے لیے ٹینکر کی خریداری اقوام متحدہ کی طرف سے ترتیب دیے گئے ہنگامی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک فیصلہ کن قدم ہے تاکہ بحیرہ احمر میں علاقائی ماحولیاتی تباہی اور اقتصادی اثرات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر تک تیل کی منتقلی کے لیے فوری طور پر اضافی 34 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ تیرتے ٹینک کے حوالے سے آنے والی تباہی کو روکنے کے لیے مزید تعاون کو متحرک کرنے کے لیے کام کرے گا۔

علاوہ ازیں یمن میں اقوام متحدہ کے رہائشی اور انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر ڈیوڈ گریسلی نے کہا ہے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی طرف سے جہاز کی خریداری درحقیقت ایک بڑا قدم ہے جو عطیہ دہندگان، نجی شعبے اور عالمی اداروں کی فراخدلی سے حاصل کیا گیا ہے۔ گریسلی نے کہا تصادم کے دونوں فریق اس منصوبے کی توثیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ منصوبہ اب آپریشنل مرحلے میں ہے ہمیں امید ہے اگلے تین سے چار مہینوں میں ’’صافر‘‘ ٹینکر سے تیل نکال لیا جائے گا۔

یاد رہے ’’صافر ‘‘ٹینکر ایک بڑا اور خستہ حال آئل ٹینکر ہے جو کسی بھی وقت گر سکتا ہے یا پھٹ سکتا ہے۔ یہ ٹینکر تیس سال سے زیادہ عرصہ قبل الاسکا کے ’’ ایکسن والڈیز‘‘ ٹینکر سے پھیلنے والے تیل سے چار گنا زیادہ تیل لے کر جاتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ تاریخ کا پانچواں سب سے بڑا آئل ٹینک لیک ہو گا۔

اس بحری جہاز کے آئل ٹینکر سے آئل کا اخراج بحیرہ احمر میں مرجان کی چٹانوں، ساحلی مینگرووز اور دیگر سمندری حیات کو تباہ کر دے گا اور لاکھوں افراد فضائی آلودگی کا شکار ہو جائیں گے۔ ساحلی آبادیوں پر اس پھیلاؤ کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ لاکھوں ماہی گیر راتوں رات اپنی روزی روٹی سے محروم ہو جائیں گے۔ مچھلی کے ذخیرے کی وصولی میں 25 سال سے زائد کا عرصہ لگے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں