برطانوی طالب علم پرحملہ کرنے والے عرب تارک وطن کو چھ سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سی سی ٹی وی کیمروں نے جنوبی انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن میں ایک عرب پناہ گزین کا ایک مقامی لڑکے پر چاقو سے حملے کا واقعہ محفوظ ہوگیا۔ اس واقعے کی مزید چھان بین سے پتا چلا کہ چاقو سے حملہ کرنے والا شخص ایک عرب تارک وطن ہےجس نے ایک برطانوی طالب علم پر اس وقت حملہ کیا جب اسے پتا چلا کہ یہ طالب علم برطانیہ کی طرف سے پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے لاگو کی جانے والی ملک بدری کی مجوزہ پالیسی کی حمایت کرتا ہے۔ برطانوی حکومت نے غیرقانونی طور پر ملک میں آنے والے سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو ملک بدر کرنے کی پالیسی کی منظوری دی ہے۔

دوسری طرف اس واقعے میں قصور وارقرار دیے گئے ایک عرب سیاسی تارک وطن کو چھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

برطانوی پریس کی طرف سے شائع کردہ اور العربیہ ڈاٹ نیٹ کی طرف سے دیکھی گئی تفصیلات میں اٹھائیس سالہ عرب نوجوان ریباز محمد نے عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا، جب اس نے ایک یونیورسٹی میں چاقو سے حملہ کیا۔ اس نے ایلس وہیلر نامی طالب علم جس کی عمر 18 سال ہے پر چاقو سے اس لیے حملہ کیا کیونکہ اسے پتا چلا تھا کہ طالب علم برطانیہ میں پناہ گزینوں کو بسانے کے خلاف ہے۔

نگرانی کے کیمروں کے ذریعے پکڑا گیا یہ جرم گذشتہ دسمبر میں جنوبی برطانیہ کے شہر ساؤتھمپٹن کے ہوگلینڈز پارک میں پیش آیا تھا۔

خوفناک فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ مجرم اپنے کوٹ سے کچن میں استعمال ہونے والا چاقو کھینچ رہا ہے اور یونیورسٹی کے طالب علم کو خوفزدہ راہگیروں کے سامنے پیٹھ میں چھرا گھونپتا ہے۔

وہیلر مزید دھچکے سے بچنے اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، لیکن کوئی طبی مدد حاصل کرنے سے پہلے ہی ہوش کھو بیٹھا۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ خوش قسمتی سے طالب علم کا ایک دوست جائے وقوعہ پر موجود تھا اور اس نے فوری طور پر ایمبولینس اور پولیس کو بلایا۔ اپنے دوست کے زخم پر دباؤ ڈالا اور حکام کے پہنچنے تک خون بہنے کو روکنے کی کوشش کی۔

محمد نامی نوجوان کو جائے وقوعہ پر گرفتار کر لیا گیا اور افسران کو بتایا کہ اس نے یہ حملہ اس لیے کیا کیونکہ اسے برطانیہ سے ملک بدری کی دھمکی دی گئی تھی۔

ان کے وکیل رچرڈ ٹٹ نے ساؤتھمپٹن مجسٹریٹس کی عدالت کو بتایا کہ محمد نے سوچا جو کچھ اسے بتایا گیا اس سے کافی سنگین جرم کرنے کی ضرورت ہے۔

عرب نوجوان محمد ایک چھوٹی کشتی پر غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچا تھا اور جب جرم کا ارتکاب کیا گیا تو وہ ساحلی شہر بورن ماؤتھ کے ایک ہوٹل میں مقیم تھا۔ کیس پیپرز کے مطابق اس کے پاس کوئی کام یا پیسہ نہیں تھا اور وہ برطانیہ سے ملک بدری سے بچنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔

عدالت نے محمد کو جس نے جان بوجھ کر شدید جسمانی نقصان پہنچانے اور چاقو رکھنے کا اعتراف کیا تھا کو 4 سال کی توسیع کے امکان کے ساتھ 6 سال قید کی سزا سنائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں