تباہ کن زلزلے کا خوف، استنبول کے شہری ہجرت کرنے لگے

1999 کی طرح دوبارہ زلزلہ آنے کے خوف سے لوگ نکلنے لگے، یہ رجحان درست نہیں: ماہر ماحولیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ کے شہر استنبول میں تباہ کن زلزلے کے امکان کے حوالے سے بار بار کی پیش گوئیوں اور امکانات نے شہر کے مکینوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔ 16 ملین کی آبادی کے ساتھ استنبول ترکیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لوگوں میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ 1999 کی طرح میں دوبارہ خوفناک زلزلہ آسکتا ہے۔ خوف کی اس لہر کے دوران لوگوں نےاستنبول سے ہجرت کرنا شروع کردی گئی ہے۔ استنبول سے ہجرت کرنے والے چھوٹے قصبوں اور دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ ایک سائنسدان ایک ترک ماہر ماحولیات نے کہا ہے کہ آنے والے زلزلے کا سامنا کرنے کے لیے استنبول سے نکلنا بہترین حل نہیں ہے۔

ماحولیات کے سائنسدان گنر یالینک نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ استنبول کے رہائشیوں کی چھوٹی تعداد ملک کے اندر دوسرے شہروں یا صوبوں میں منتقل ہوئی ہے۔ شہر کے رہائشیوں میں سے کچھ لوگ زلزلے کا سامنا کرنے کے لیے اپنی گاڑیوں کو سونے کے لیے تیار کر رہے ہیں ۔ کچھ لوگ زلزلہ یا لوہے کے مزاحم کمرے بنا رہے ہیں۔

ماہر ماحولیات نے کہا کہ گزشتہ ماہ جنوبی ترکیہ میں آنے والے زلزلے نے استنبول کے رہائشیوں میں خوف پیدا کر دیا ہے جس نے ان میں سے کچھ کو 1999 میں آنے والے زلزلے کی طرح دوبارہ آنے کے خوف سے یہاں سے ہجرت کرنے کا سوچنے پر مجبور کیا۔ خاص طور پر استنبول میں ایک اور تباہ کن زلزلے کی توقع کی پیش گوئی بھی کی جارہی ہے۔ اس زلزلہ میں لگ بھگ 17 ہزار افراد مارے گئے اور نصف ملین بے گھر ہوگئے تھے۔ شہر ’’ازمید ‘‘ اس زلزلے کے بعد ایک آفت زدہ علاقہ بن گیا تھا۔ اس زلزلہ کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔

62
62

انہوں نے کہا اس مرتبہ بھی متوقع زلزلہ بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ خیال رہے استنبول پچاس کی دہائی میں صنعتی شہر میں تبدیل ہوا ۔ اس دوران اس کی طرف لوگوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت بھی ہوئی۔ شہر میں او ر اس کے اطراف میں کچی بستیاں تعمیر ہوگئیں۔ سستے اور ناقص معیار کے مکانات کی بھی بڑے پیمانے پر تعمیر ہوئی۔ اب شہر میں زیادہ تر عمارتیں 40 سال پرانی ہیں۔ استنبول سے ہجرت کا خیال اچھا شمار نہیں ہوتا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان خطرات کا سامنا کرنے کا بہترین حل نئے شہروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی میں ہے۔ یہ ایسے شہر ہوں جو قدرتی آفات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ استنبول سے دوسرے شہروں اور دیہی علاقوں میں منتقل ہونا کوئی حل نہیں ہے۔

استنبول کے زلزلوں کے متوقع خطرے سے دوچار علاقوں میں رہنے والے متعدد افراد دیہی علاقوں میں واپس آگئے ہیں۔ متوقع طور پر آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل ر 10 ڈگری تک پہنچ سکتی ہے۔

علاقے کے دیگر رہائشیوں نے اپنے دیہی علاقوں میں زلزلے کے خطرے والے علاقوں کا متبادل تلاش کیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں جائیداد کی قیمتوں میں اضافے نے دوسروں کو وہاں رہنے سے روک دیا۔

آج جمعرات کو ترکیہ میں زلزلہ پیما انسٹی ٹیوٹ نے اطلاع دی ہے کہ ڈچ سیسمولوجسٹ فرینک ہوگریبِٹس کی پیش گوئیوں کے چند گھنٹے بعد بحیرہ مرمرہ میں 4.2 کی شدت کا زلزلہ آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں