عرب اور مغربی دارلحکومتوں سے ریاض ۔ تہران سفارتی تعلقات بحالی کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کی قومی سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’امریکہ سعوی عرب اور ایران کے درمیان جمعے کو سفارتی تعلقات بحال ہونے کی خبروں سے آگاہ ہے تاہم مزید تفصیلات سعودی حکام بتائیں گے۔‘

سعودی عرب اور ایران کئی برسوں کی کشیدگی کے بعد سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کرنے اور دو ماہ کے اندر ایک دوسرے کے ملک میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’عام طور پر ہم یمن میں جنگ کے خاتمے اور مشرق وسطٰی میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کے لیے کسی بھی طرح کی کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

ترجمان کے مطابق کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری اس پالیسی کے کلیدی ستون ہیں جو صدر بائیڈن نے گذشتہ برس خطے کے اپنے دورے کے دوران بیان کی تھی۔

دونوں ملکوں کے سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق عراق اور عمان دونوں نے تعلقات کی بحالی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

عمان نیوز ایجنسی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عمان نے ریاض اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے سہ فریقی بیان کو خوش آئند قرار ہے۔

عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ عراق نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ’ایک نیا باب شروع ہونے‘کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترکیہ کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں معاہدے کو مثبت اقدام قرار دیا گیا ہے۔

خلیج تعاون کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امید ہے کہ یہ معاہدہ ’سلامتی اور امن کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔‘

جمعے کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق سعودی عرب اور ایران نے سنہ 2022-2021 کے دوران فریقین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرنے پر عراق اور عمان کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

دونوں ممالک نے مذاکرات کی میزبانی، اس کی سرپرستی کرنے اور اس کی کامیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر عوامی جمہوریہ چین کی قیادت اور حکومت کی تعریف اور شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں