ایرانی جنگی طیارے کی آذربائیجان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی،باکو میں سفیرطلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی باکو میں متعیّن ایران کے سفیر کوطلب کیا ہے اوران سے ایک ایرانی جنگی طیارے کی مبیّنہ طور پرآذربائیجان کی سرحد کے قریب پرواز اوراس کو عبور کرنے پراحتجاج کیا ہے۔

آذربائیجان کی وزارت خارجہ اور دفاع کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوجی طیارے نے آذربائیجان اور ایران کی سرحد پر واقع آذری اضلاع زنگیلان اور بلاسووار کے درمیان مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح 9:44 سے 10:26 بجے تک پرواز کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طیارہ وسط ایشائی ریاست کی سرحد سے تین سے پانچ کلومیٹر (دو سے تین میل) دور پروازکر رہا تھا،بعض مواقع پراس نے سرحد بھی پار کی اور آذربائیجان کی فضائی حدود میں دراندازی کی ہے۔

آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کے لیے ملک میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے۔اگرچہ ایران کے سرکاری میڈیا نے اس طلبی کی اطلاع دی ہے لیکن تہران نے ابھی تک اس واقعہ پرکوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’آذربائیجان کے آزاد شدہ علاقوں کے قریب آدھے گھنٹے سے زیادہ عرصے تک فوجی طیارے کی پرواز ملک کے خلاف اشتعال انگیزی اورغیردوستانہ رویہ ہے۔ہم اس طرح کے اشتعال انگیزاقدام پرایرانی فریق کی شدید مذمت کرتے ہیں، ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مناسب وضاحت پیش کریں اور مستقبل میں اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات سے گریزکریں‘‘۔

ان دونوں ممالک کے درمیان قریباً 700 کلومیٹر (430 میل) طویل سرحد ہے اور دونوں کے درمیان پیچیدہ تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔

ایران آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا بھی مخالف ہے کیونکہ اسرائیل باکو کو اسلحہ مہیا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔ تہران آذربائیجان میں قوم پرستوں اور اس کے قریبی اتحادی ترکیہ کی جانب سے اپنے صوبہ آذربائیجان کی بڑی نسلی آبادی میں علاحدگی پسندی کے رجحانات کو ہوا دینے کا بھی ناقد ہے۔

واضح رہے کہ آذری ایران کا سب سے بڑا اقلیتی گروہ ہیں۔ان میں سے لاکھوں شمال مغربی ایران کے ایک خطے میں رہتے ہیں جو آذربائیجان کی آزاد ریاست کے برابرہے۔جنوری میں تہران میں آذربائیجان کے سفارت خانے پرمسلح حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوگئے تھے۔اس حملے کے نتیجے میں آذربائیجان کا ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دوزخمی ہو گئے تھے۔

ایرانی حکام کا کہناتھا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔انھوں نے ’ذاتی اورخاندانی مسائل‘ کو اس حملے کا محرک قراردیا تھا۔تاہم آذربائیجان نے اس حملے کا الزام ایران پرعائد کیا تھا اوراس کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہناتھا کہ ایرانی میڈیا میں آذربائیجان مخالف مہم کی وجہ سے اس حملے کی حوصلہ افزائی ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں