ایف بی آئی کا پہلی مرتبہ بغیر اجازت امریکی شہریوں کا ڈیٹا خریدنے کا اعتراف

ایف بی آئی نے کچھ سمارٹ فون ایپس کے ذریعے شہریوں کی لوکیشن کا ڈیٹا خریدا، انسانی حقوق کارکن ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایف بی آئی نے پہلی مرتبہ کچھ سمارٹ فون ایپس کے ذریعے جمع کردہ امریکی شہریوں کے لوکیشن ڈیٹا کی خریداری کا اعتراف کرلیا۔ ایف بی آئی کے اعتراف پر رازداری برقرار رکھنے کے حامی افراد میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ خاص طور پر جب سے دفتر نے عدالتی وارنٹ حاصل کیے بغیر یہ ڈیٹا حاصل کیا۔

یہ اعتراف ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کی اس بات چیت میں سامنے آیا جو عالمی خطرات پر سینیٹ کی سماعت کے دوران انہوں نے کی ۔ کرسٹوفر رے نے تصدیق کی کہ دفتر نے پہلے قومی سلامتی سے متعلق ایک منصوبے کے لیے مذکورہ معلومات خریدی تھی جس کی اس نے وضاحت نہیں کی تھی۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آئی نے اس عمل کو اب روک دیا ہے۔ ایف بی آئی اس وقت تحقیقات کے لیے درکار ڈیٹا مجاز طریقے سے حاصل کر رہا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ دفتر نے عدالتی حکم حاصل کیے بغیر امریکی شہریوں کے لوکیشن ڈیٹا خریدنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے انسانی حقوق کے اداروں کے ان شبہات کی تصدیق ہوگئی ہے جن پر طویل عرصہ سے تشویش کا اظہار کیا جارہا تھا اور کہا جارہا تھا کہ شہریوں کی پرائیویسی متاثر کی جارہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے سرکاری اجازت حاصل کیے بغیر امریکی شہریوں کے لوکیشن ڈیٹا تک رسائی امریکی آئین کے ’’آرٹیکل فور ‘‘ کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم اس فیصلے نے ایک قانونی سقم چھوڑ دیا ہے جس کا فائدہ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی سمیت متعدد وفاقی ایجنسیوں نے اٹھایا ہے۔ واضح رہے اس سے قبل یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ماضی میں نجی مارکیٹنگ کمپنیوں سے امریکی شہریوں کے لوکیشن ڈیٹا خریدے تھے۔

ایف بی آئی کی جانب سے پہلی مرتبہ شہریوں کا ڈیٹا خریدنے کے اس اعتراف نے انسانی حقوق اور از داری برقرار رکھنے کے حامی کارکنوں کو ناراض کردیا ہے۔ ان کارکنوں کا کہنا ہے

کہ ایف بی آئی اور دیگر تفتیش کاروں کے اس طرح کے اقدامات امریکی شہریوں کی ڈیجیٹل آزادی اور رازداری کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

ویب سائٹ ’’ارس ٹیکنیکا‘‘ کو ایک بیان میں ’’ ای ایف ایف‘‘ کے سینئر اٹارنی ایڈم شوارٹز نے کہا ہے کہ امریکی حکومتی ایجنسیوں کو ڈیٹا بروکرز سے نجی معلومات خرید کر آئین کے ’’آرٹیکل فور ‘‘ کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ لوگوں کی رضامند ی اور ان کے علم میں لائے بغیر ان کی انتہائی حساس معلومات لے لینا خطرناک عمل ہے۔

شہری آزادیوں کی وکالت کرنے والے گروپ ڈیمانڈ پروگریس کے وکیل شان وٹکا نے ایف بی آئی کے اقدامات کو ہولناک قرار دیا اور کہا عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان خریداریوں کو کس نے اجازت دی۔ انہوں نے اس پریکٹس پر مکمل پابندی کے لیے قانون سازی کا بھی مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں