تُونس کے صدر کا شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تُونس کے صدر قیس سعید نے کہا ہے کہ وہ شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تونس اور شام کے تعلقات قریباً ایک دہائی پہلے دمشق کی جانب سے سیاسی مخالفین پر جبر کی مخالفت میں منقطع ہوگئے تھے۔

جمعہ کی شب صدارتی دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو کے مطابق، تونسی وزیر خارجہ نبیل عمار کے ساتھ ایک ملاقات میں صدر نے کہا کہ"دمشق میں تونس کے سفیر اور تونس میں شام کے سفیر کی عدم موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "شام میں حکومت کا سوال صرف شامیوں سے تعلق رکھتا ہے،ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔"

اس سے قبل فروری میں صدر سعید نے شام میں تونس کی "سفارتی نمائندگی کو تقویت دینے" کے ارادے کا ذکر کیا تھا۔

واضح رہے کہ تونس نے 2012 میں ملک کی خانہ جنگی کے آغاز میں صدر بشار الاسد کے مخالفین پر خونی جبر کی وجہ سے شام کے سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعطل سابق صدر منصف مرزوقی کے دور حکومت میں رونما ہوا تھا جبکہ اس وقت اپوزیشن کی طرف سے اس اقدام پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

2015 میں، تونس نے تعلقات کی بحالی کی طرف ایک قدم اٹھایا تھا جب شام میں تونس کے سفارت خانے میں نمایندگی کے لیے ایک قونصلر کو نامزد کیا گیا تھا تاکہ وہ ملک کے مفادات کی نگرانی کرسکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں