العربیہ ایکسکلوسیو

مشرق وسطیٰ اور کیف کی ثقافت میں مشترک نکات ہیں: یوکرینی خاتون اول

روسی زبان جنگ کی زبان بن چکی، یوکرینیوں کیلئے اس کا بولنا مشکل ہوجائے گا: اولینا زیلنسکی کا ’’ العربیہ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کی خاتون اول اولینا زیلنسکی نے کہا ہے کہ کیف کے مشرق وسطیٰ کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ مشرق وسطی اور یوکرین کے لوگوں کے درمیان ان دونوں ملکوں کی ثقافت میں بہت سے مشترک نکات ہیں۔

’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران او لینا زیلنسکی نے مزید کہا کہ مجھے زیادہ یقین ہو گیا کہ ہمارے پاس ایسے نکات ہیں جو ہمیں الگ کرنے والے نکات سے زیادہ متحد کرتے ہیں۔ ہم بھی اپنے بچوں اور والدین سے بھی پیار کرتے ہیں، ہم ان کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم اپنی ثقافت اور زبان سے محبت کرتے ہیں اور اس کی نشوونما کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر ہمارے پاس بہت زیادہ صلاحیت ہے۔

اولینا نے کہا میں پوری عرب دنیا سے کہنا چاہتی ہوں، میں جانتی ہوں کہ آپ ہمیں سمجھتے ہیں کیونکہ باشعور لوگ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کا تعاون تمام یوکرینیوں کے لیے جاری رہے گا۔ ہمیں واقعی آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

یوکرینی خاتون اول سے انٹرویو کا ایک منظر
یوکرینی خاتون اول سے انٹرویو کا ایک منظر

یوکرین کی خاتون اول نے یوکرینیوں کے لیے روسی زبان کو جنگ کی زبان قرار دیا اور کہا کہ جو کچھ ہوا اس کے بعد یوکرینیوں کے لیے روسی زبان بولنا مشکل ہو جائے گا۔ ان لوگوں کی زبان بولنا مشکل ہے جو آپ کو مارنے آئے ہیں۔ یہ بہت آسان ٹرانسمیشن ہے۔ اس زبان کو سننا بھی مشکل ہے تو آپ اسے استعمال کرنا کیسے چاہتں گے۔ حالانکہ ہم سب روسی زبان جانتے ہیں لیکن ہم اسے استعمال نہیں کرتے، کیونکہ یہ ہمارے لیے دوستی کی زبان نہیں ہے یہ اب جنگ کی زبان بن چکی ہے۔

یوکرین کی خاتون اول اولینا زیلنسکا کے ساتھ انٹرویو "العربیہ" کی سکرین پر جی ایم ٹی وقت کے مطابق آج سہ پہر چار بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق رات نو بجے نشر کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں