بیلجیم نے سرکاری کام کے موبائل فونز سے TikTok پر پابندی عائد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیلجیم کے وزیراعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ بیلجیم کی وفاقی حکومت کے ملازمین کو اب اپنے کام کے فونز پر چینی ملکیت والی ویڈیو ایپ TikTok استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈی کرو نے کہا کہ بیلجیم کی قومی سلامتی کونسل نے "ٹک ٹاک" کے ذریعے جمع کیے گئے ڈیٹا کی بڑی مقدار سے منسلک خطرات سے خبردار کیا تھا۔ ٹاک چینی کمپنی "ByteDance" کی ملکیت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کمپنی چینی انٹیلی جنس سروسزکے ساتھ تعاون کرنے کی پابند ہے۔

وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا کہ "وفاقی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ فونز پر ٹک ٹاک کے استعمال کو روکنے کے لئے یہ سمجھ میں آتا ہے۔" "ہماری معلومات کی حفاظت ترجیح ہونی چاہیے۔"

TikTok نے ایک بیان میں کہا کہ اسے اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ "بنیادی طور پر غلط معلومات" پر مبنی ہے۔

کمپنی نے کہا کہ وہ امریکا اور سنگاپور میں صارف کا ڈیٹا اسٹور کرتی ہے اور یورپ میں ڈیٹا سینٹرز بنا رہی ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ "چینی حکومت دیگر خود مختار ریاستوں کو اپنی سرزمین پر ذخیرہ شدہ ڈیٹا شیئر کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔"

گذشتہ ماہ یورپی کمیشن اور یورپی پارلیمنٹ نے کمپنی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات اور چینی حکومت صارف کا ڈیٹا اکٹھا کرنے یا اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے امکان کی وجہ سے ملازمین کے فونز پر TikTok کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔ بیجنگ نے بارہا ایسے کسی بھی ارادے کی تردید کی ہے۔

کینیڈا اور امریکا نے بھی تمام سرکاری فونز اور ڈیوائسز پر "ٹک ٹاک" ایپلی کیشن پر پابندی لگا دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں