خاتمی نے القاعدہ ارکان کو سعودیہ کے حوالے کرنے کا اقدام کیا، اعتماد پیدا نہ ہوا

اعتماد نہ ہونے کی ایک وجہ ایرانی فیصلہ سازی کے مراکز کی کثرت ہے، اب ریاض اور تہران میں اعتماد کیسے قائم ہوسکتا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر محمد خاتمی کے دور صدارت میں صدر کے دفتر نے ریاض اور تہران کے درمیان ہم آہنگی، مذاکرات اور تعاون پیدا کرنے کے متعلق حکومت میں شامل سعودی شخصیت سے بات چیت کی تھی۔

خاتمی اپنی اصلاح پسندانہ سوچ کے لیے مشہور تھے ۔ وہ عرب خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے تھے اور اس سمت میں بہت زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ اسی حوالے سے ایران میں زیر حراست ’’ القاعدہ تنظیم‘‘ سے وابستہ قیدیوں کے ایک گروپ کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے مقصد کے تحت انہوں نے تہران کا دورہ کرنے والے سعودی سفیر سے بات چیت کی تھی۔

سابق ایرانی صدر محمد خاتمی
سابق ایرانی صدر محمد خاتمی

ایرانیوں نے اس وقت سعودی سفارتی شخصیت کو مطلع کیا کہ اس فہرست میں "القاعدہ" سے تعلق رکھنے والے متعدد سعودی شامل ہیں اور یہ اقدام سعودی حکومت کے ساتھ سیکورٹی اور سیاسی تعاون میں صدر محمد خاتمی کی حکومت کی سنجیدگی کو ثابت کرتا ہے۔ .

سعودی سرگرمی

سعودی ایلچی مملکت واپس لوٹ گئے۔ سعودی فرماں روا کو بات چیت کی تفصیلات اور ایرانی حکام کی طرف سے انہیں فراہم کی گئی معلومات سے آگاہ کیا۔ ان کا اس پیش کش پر لاجسٹک طریقہ کار کا انتظام کرنے کے لیے ایک اعلیٰ شخصیت کے ساتھ ایران واپس آنے کا پروگرام تھا۔

تعلقات بحالی کے معاہدے کے بعد چین کے نمائندے کی موجودگی میں ایران اور سعودی نمائندے مصافحہ کر رہے
تعلقات بحالی کے معاہدے کے بعد چین کے نمائندے کی موجودگی میں ایران اور سعودی نمائندے مصافحہ کر رہے

ماہرین کا ایک سعودی وفد تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا جس میں "القاعدہ" کے ارکان کے ناموں کی درستگی کی تصدیق کی جائے گی۔ اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ آیا وہ واقعی سعودی ہیں۔ تصاویر کو ناموں کے ساتھ ملایا جائے گا۔ "ڈی این اے" کا تجزیہ بھی کیا جائے گا۔ ان افراد کے نمونے کے لیے انہیں سعودی عرب کے ڈیٹا بیس سے چیک کیا جانا تھا۔

درحقیقت تکنیکی اور سیکورٹی ماہرین کا وفد ایران گیا۔ اس انتظار میں بیٹھا کہ "القاعدہ" کے ارکان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ابتدائی طریقہ کار اختیار کیا جا سکے ۔تاہم ان کا انتظار توقع سے زیادہ طویل تھا۔

بے نتیجہ انتظار

سابق صدر محمد خاتمی نے خود کو ایک شرمناک صورتحال میں پایا کیونکہ انہوں نے ہی اس حوالے سے پہل کی تھی۔ خاتمی آدھے راستے میں حیران رہ گئے کہ فیصلہ اکیلے نہیں لیا جا سکتا تھا۔پورے عمل کو اس لیے منسوخ کرنا پڑا کیونکہ ان دونوں جماعتوں نے اعتراض کیا تھا۔ جماعتوں نے خیال کیا کہ یہ سعودی عرب کو مفت کا تحفہ دیا جا رہا ہے ۔ یہ تحفہ خاتمی کو مفت میں پیش نہیں کر نا چاہیے تھا۔

سابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف
سابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف

یہ کہانی سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں کٹھن راستے کی ایک مثال ہے۔ یہ راستہ بہت سے مسائل اور بحرانوں سے بھرا ہوا ہے جن کی وجہ سے اعتماد میں خلل پڑ جاتا ہے۔ اگر بیجنگ کی سرپرستی میں ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کی بحالی کا اعلان مضبوط اور مستقبل کی شراکت داری اور تعاون کی طرف بڑھتا ہے۔ تو ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں جانب سے اعتماد سازی کو بہتر کیا جائے۔ مضبوط بنیادوں پر تعلق استوار کیا جائے ، واضح معاہدوں پر عمل کیا جائے اور مکمل عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

پالیسی تنازعات

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو درپیش اہم مسائل میں سے ایک ایرانی فیصلہ سازی کے مراکز کی کثرت ہے۔ سعودی عرب میں سیاسی فیصلہ ایک جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ بادشاہ فیصلہ جاری کرتا ہے اور متعلقہ ایجنسیاں اس کے نفاذ میں لگ جاتی ہیں ۔ دوسری جانب ایرانی ریاستی اداروں کے اندر اختیارات کا تنازعہ ہے جس کا انکشاف سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی لیکس سے بھی ہو چکا ہے۔ جواد ظریف نے خارجہ پالیسی میں "پاسداران انقلاب" کے ملوث ہونے شکایت کی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبد اللھیان
ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبد اللھیان

مزید جس چیز نے سابق صدر محمد خاتمی کے "القاعدہ" کے زیر حراست افراد کی گرفتاری کے اقدام کو ناکام بنایا وہ طاقت کے مراکز کی کثرت تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب ایران کے صدر اس اہم قدم کی حمایت کر رہے تھے اور اس سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہونا تھے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر نے "پاسداران انقلاب" کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کرلیا اور القاعدہ ارکان کی حوالگی کو روکنے کے لیے آگے آ گئے۔

گزشتہ مہینوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبداللہیان اور ان کی وزارت کے عہدیداروں کی جانب سے سعودی عرب کے حوالے سے مثبت بیانات سامنے آئے لیکن ساتھ ہی ساتھ "پاسداران انقلاب" کے جرنیلوں کی طرف سے واضح دھمکیاں بھی آئیں۔ یہ صورتحال ایران میں متضاد پالیسیوں کی عکاسی کر رہی ہے۔

نتائج پر نظر رکھیں

مبصرین نے محسوس کیا ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ساتھ معاملہ کرنا مشکل نہیں ہے لیکن ایران میں فیصلہ سازی ایک پیچیدہ معاملہ ہے جو کئی مراحل سے گزرتا ہے اور اس پر سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا شخص سپریم لیڈر اور اس کی ٹیم ہے۔ اس کے قریبی مشیر الگ رپورٹس اور نقطہ نظر سپریم لیڈر کو پیش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے قدامت پسند قوتوں اور پاسداران انقلاب کے درمیان اتحاد کے نیٹ ورکس کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگلے دو ماہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم ہوں گے۔ اس حوالے سے ایران کا فیصلہ ایک ہونا چاہیے اور اسے باقاعدہ چینلز کے ذریعے جاری ہونا چاہیے۔ جن ذرائع سے فیصلہ سامنے آئے وہ مختلف سرکاری اداروں کے عہدوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ عملی منظر واضح اور زیادہ شفاف ہو۔ ایران میں متضاد پالیسیاں پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کی پائیداری اور فروغ کو منفی طور پر متاثر کریں گی۔

آج سعودی عرب ایران کے ساتھ اچھی ہمسائیگی، بین الاقوامی معاہدوں اور ان کی پاسداری، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی مستقل تعلقات کے لیے اپنی کوششوں میں بالکل واضح ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق جہاں بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی بات آتی ہے مملکت سیاسی حل اور بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ٹویٹ میں واضح کیا ہے کہ خطے کے ملکوں کی تقدیر ایک ہے اور وہ مشترک اقدار ہیں۔ خطے کو خوشحالی اور استحکام کا نمونہ بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب عرب خلیجی خطے کے سامنے سلامتی اور استحکام کے حصول کا ایک موقع موجود ہے۔ اس استحکام کے حصول کے لیے ایک بنیاد حقیقی اعتماد پیدا کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں