سعودی تیل کمپنی آرامکو کا 2022 میں 161.1 ارب ڈالر کا ریکارڈ منافع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو نے 2022ء کے دوران میں 161.1 ارب ڈالر کا ریکارڈ سالانہ خالص منافع ظاہر کیا ہے جو توانائی کی قیمتوں اور فروخت میں اضافے اور مصفا مصنوعات کے مارجن میں بہتری کی وجہ سے گذشتہ سال کے مقابلے میں 46 فی صد زیادہ ہے۔

سعودی آرامکو کا یہ منافع ایگزون کے 56 ارب ڈالر کے مقابلے میں قریباً تین گنا ہے، اس نے فروری میں بی پی، شیل اور شیورون جیسی بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے منافع میں اضافے کی اطلاعات کے بعد اس ریکارڈ منافع کی اطلاع دی ہے۔ ان تمام کمپنیوں نے گذشتہ سال زیادہ تر ریکارڈ منافع کمایا ہے۔

یوکرین میں جنگ کے دوران جغرافیائی سیاسی خدشات کی وجہ سے 2022 میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، پھر سب سے زیادہ درآمد کنندہ چین کی کمزور طلب اور عالمی اقتصادی سکڑاؤ کے خدشات کی وجہ سے قیمتوں اور مانگ میں کمی واقع ہوئی تھی۔

آرامکو کے چیف ایگزیکٹوآفیسر (سی ای او) اور صدر امین ایچ ناصر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’’یہ دیکھتے ہوئے کہ ہمیں توقع ہے، تیل اور گیس مستقبل قریب میں ضروری رہیں گے، ہماری صنعت میں کم سرمایہ کاری کے خطرات حقیقی ہیں جس میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، کمپنی نئی کم کاربن ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان میں اخراج میں اضافی کمی حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی 2027 تک خام تیل کی پیداواری صلاحیت کو ایک کروڑ تیس لاکھ بیرل یومیہ (بی پی ڈی) تک بڑھانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

آرامکو کے سرمائے کے اخراجات 2022 میں 18 فی صد اضافے کے ساتھ 37.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ اس سال کے اخراجات 45.0 ارب ڈالر سے 55.0 ارب ڈالر تک رہیں گے جس میں بیرونی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

آرامکو نے چوتھی سہ ماہی کے لیے 19.5 ارب ڈالر کے منافع کا اعلان کیا ہے جو گذشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 4 فی صد زیادہ ہے۔اس کے بورڈ نے بونس حصص جاری کرنے کی بھی سفارش کی ہے اور اس کے اہل حصص داران کو ہر10 حصص پر ایک حصص ملے گا۔

آرامکو کا 2021ء میں 107.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2022 میں مفت نقد بہاؤ 148.5 ارب ڈالر کے ریکارڈ تک پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال فروری میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ 139.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا، جو 2008 کے بعد سے سب سے زیادہ تھا۔ 2022 کی دوسری شش ماہی میں قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی کیونکہ مرکزی بینکوں نے شرح سود میں اضافہ کیا اور کساد کے خدشات کو ہوا دی تھی۔

سعودی عرب اور روس کی سربراہی میں تیل پیداکرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس نے گذشتہ سال مارکیٹ کو سہارا دینے کے لیے نومبر سے 2023 کے اختتام تک پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کمی سے اتفاق کیا تھا۔

اس فیصلے پر امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے شدید تنقید کی تھی لیکن اس کے بعد سے مارکیٹ کی حرکیات نے اس کٹوتی کو دانش مندانہ قرار دیا ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں 2022 میں 100 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 80 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں