ایران:عدلیہ نے مظاہروں میں گرفتارکیے گئے 22 ہزارافراد کو معاف کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اعجئی نے کہا ہے کہ عدالتی حکام نے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتارکیے گئے 22 ہزارافراد کو معاف کردیا ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے گذشتہ ماہ کے اوائل میں خبردی تھی کہ سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے اختلاف رائے کی بناپرمہلک کریک ڈاؤن کے دوران میں گرفتار کیے گئے 'ہزاروں' قیدیوں کو معاف کردیا ہے۔

عدلیہ کے سربراہ نے کہا کہ اب تک 82 ہزارافراد کو معاف کیا جا چکا ہے۔ان میں 22 ہزار ایسے افراد بھی شامل ہیں جنھوں نے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیاتھا۔

انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ معافی کس مدت سے دی گئی ہے اور یہ کہ ان لوگوں پر کب فردِجُرم عاید کی گئی تھی۔

گذشتہ سال ستمبر میں تہران میں اخلاقی پولیس کی تحویل میں ایک نوجوان ایرانی کرد خاتون کی ہلاکت کے بعد سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان میں اب تک ہزاروں افراد کو گرفتارکیا جاچکا ہے۔

سکیورٹی فورسزکی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایرانیوں نے شرکت کی ہےاور یہ احتجاجی تحریک 1979ءکے انقلاب کے بعد ایرانی حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں