تحریر موجود، واشنگٹن نے قیدیوں کا تبادلہ قبول کیا تھا: تہران کا اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی تردید کے باوجود ایران نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق کے لیے مذاکرات کے وجود پراصرار کردیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی فریق نے جوہری معاہدے پر مذاکرات سے دور رہتے ہوئے ایک مرحلے پر قیدیوں کے تبادلے کی تکمیل کو قبول کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کا اس مسئلے پر واشنگٹن کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ موجود ہے ۔ تاہم انہوں نے اس معاہدہ کی تفصیلات شائع کرنے سے انکارکردیا۔

ناصر کنعانی نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کو حقیقت پسندانہ طریقے سے نمٹا نا چاہیے۔ اس حوالے سے ایران امریکہ کےعزم سے متعلق ضمانتیں حاصل کرنے کی ضرورت پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری میں اپنے عزم اور یقین کا عملی طور پر مظاہرہ کیا ہے۔

کنعانی نے کل شام واشنگٹن کی طرف سے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللھیان کے بیان کی تردید پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ عبد اللھیان نے اپنے بیان میں انکشاف کیا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ عبد اللھیان نے کہا اس مسئلے کو سیاسی کھیل کے ایک ٹول کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ قیدیوں کے تبادلے پر کچھ ضروری تکنیکی اقدامات پر کام جاری ہے۔ تاہم امریکی انتظامیہ نے فوری طور پر ایرانی وزیر خارجہ کے دعوے کی تردید کردی تھی اور کہا تھا کہ یہ بیانات جھوٹے ہیں۔ امریکہ انتظامیہ نے کہا ہم ایران میں زیر حراست اپنے تین شہریوں کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں۔

تاہم باخبر ذرائع نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ ان مذاکرات کے آثار گزشتہ ستمبر میں شروع ہوئے تھے لیکن ایرانی حکام کی جانب سے نوجوان خاتون مہسا امینی کے قتل کے بعد ملک میں پھوٹنے والے وسیع مظاہروں سے پرتشدد انداز میں نمٹنے کے بعد ان مذاکرات کو ختم کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ایرانی جیلوں میں قید تین امریکیوں میں سیامات نمازی، عماد شرقی اور مراد طھباز شامل ہیں۔ سیامات نمازی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ عماد شرقی ایرانی نژاد امریکی ماحولیاتی سائنس دان ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں