سعودی عرب سے مصالحت مصر،اردن اور بحرین سے تعلقات پرمثبت اثرات مرتب کرے گی:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے پر رضامندی کے چند روز بعد تہران کا کہنا ہے کہ اب اس کی نظریں مصر،اردن اور بحرین پر مرکوز ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے سوموار کوایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اورسعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی سے علاقائی ہمسایہ عرب ممالک مصر، اردن اور بحرین کے ساتھ تہران کے تعلقات پربھی "مثبت اثرات" مرتب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’خوش قسمتی سے خطے میں ہم جس مثبت ماحول کا مشاہدہ کررہے ہیں،اس سے یہ مثبت پیش رفت بحرین سمیت دیگر علاقائی ممالک کے حوالے سے بھی ہوسکتی ہے‘‘۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے کنعانی کے حوالے سے کہا کہ ’’ہمیں سفارت کاری کے راستے پر مزیداعتماد کرنا چاہیے اور اس سمت میں اقدامات کرنے چاہییں‘‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ مصر ایک اہم ملک ہے اور دونوں ممالک خطے میں ایک دوسرے کی اہمیت کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔خطے کو تہران اور قاہرہ دونوں کی مثبت صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں ایران اور اردن کے درمیان سیاسی تعلقات کو ترک نہیں کیا گیا ہے اور تہران عَمان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کوتیار ہے۔

ان کا یہ بیان سعودی عرب اورایران کے درمیان گذشہ جمعہ کو چین کی ثالثی میں سفارتی تعلقات بحال کرنے اور سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے کے تاریخی اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران علاقائی مسلح تنازعات میں ایک دوسرے مخالف فریقوں کی حمایت کرتے ہیں اور مشرق اوسط میں سیاسی تنازعات میں بھی باہم مخالف ہیں۔

اگرچہ ایران اوراردن کے درمیان سفارتی تعلقات استوار ہیں،لیکن ان میں سردمہری پائی جاتی ہے اور 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔انھوں نے بعض امور پرایک دوسرے کے سفیروں کو احتجاجاً طلب کیا،اپنے اپنے سفیروں کوواپس بلایا اورتعلقات کو مکمل طور پر منقطع بھی کیا اور پھر بحال کیا ہے۔اس وقت بھی اردن اور ایران شام اور اسرائیل جیسے علاقائی تنازعات کے بارے میں متضاد نقطہ نظر کے حامل ہیں۔

یادرہے کہ بحرین نے 2016 میں تہران میں سعودی سفارت خانے پرمسلح حملے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ اظہاریک جہتی کے طور پرایران کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرلیےتھے۔ منامہ طویل عرصے سے تہران پر یہ الزام بھی عایدکرتاچلا آرہا ہے کہ وہ اس کے عوام میں بے چینی واضطراب پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

جہاں تک مصرکا تعلق ہے تو اس کے 1979 میں انقلاب کے بعد سے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع چلے آرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں