افغانستان وطالبان

’حکومت سے اختلاف کرنے والوں کو قتل کردینا چاہیے‘:طالبان کمانڈر کےبیان پرعوام میں غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان برسر اقتدار طالبان قیادت کی طرف سے آئے روز ایسے متنازع بیانات سامنے آتے رہتے ہیں جن کے نتیجے میں عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

ایک ایسا ہی متنازع بیان طالبان کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر ندا محمد ندیم نے کہا ہے کہ جو بھی حکومت کی مخالفت کرے اسے مار دیا جانا چاہیے۔

اتوار کے روز انہوں نے کہا کہ "جو لوگ حکومت کو الفاظ، قلم یا عمل سے غیر مستحکم کرتے ہیں، انہیں قتل کیا جانا چاہیے۔"

طالبان تحریک میں پھوٹ

ایسا لگتا ہے کہ طالبان تحریک کے اندر پھوٹ زوروں پر ہے۔

گذشتہ موسم گرما سے افغانستان پر قابض طالبان حکومت میں وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے حکومت کے لیے شوریٰ کونسل کے قیام کے لیے تحریک کے اندر کچھ سرکردہ رہ نماؤں کے ساتھ ایک اندرونی تحریک کی قیادت کرنا شروع کی تھی۔ سراج الدین حقانی طالبان امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے اقتدار کی اجارہ داری پر ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ طالبان رہ نماؤں کی اکثریت طالبان تحریک کے سربراہ کی جانب سے انہیں جواب دینے میں ناکامی اور ان سے ملنے یا ان سے خطاب کرنے سے انکار پر ناراض ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کچھ فیصلوں سے باز رکھنے کی کوششوں کے باوجود اخوندزادہ ان سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

وزیر دفاع کا اعتماد

ذرائع نے انکشاف کیا کہ سراج الدین حقانی طالبان تحریک کے بانی ملا عمر کے بیٹے وزیر دفاع محمد یعقوب کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہیں حکمرانی کے لیے شوریٰ کونسل کی تشکیل پر سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے رہ نماؤں سے مشاورت کرنے پر آمادہ کیا۔

ذرائع نے کہا کہ حقانی اور یعقوب نےعسکری محاذ آرائی کے ذریعے قیادت تبدیل کرنے سے انکار کر دیا اور "طالبان امیر" کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے پرامن طریقے پر کاربند رہے۔

اس نے یہ بھی طاہر ہوتا ہے کہ حقانی اور یعقوب عسکری طور پر قیادت کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ، اور "لیڈر" کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے پرامن طریقہ کار پر کاربند ہیں۔

خواتین کی اسکول واپسی

لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے کے فیصلے کے حوالے سے ، جس کے باعث ملک کے اندر اور باہر شدید تنقید ہورہی ہے، ذرائع نے ان حالیہ افواہوں کی تردید کی جن میں موسم بہار کے سمسٹر کے دوران لڑکیوں کی سکولوں اور یونیورسٹیوں میں واپسی کے متوقع فیصلے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کی کہ طالبان حکومت کے کچھ وزراء نے ہیبت اللہ کو ایک خط بھیجا، جس میں ان سے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے کام پر پابندی پر نظر ثانی کرنے کو کہا گیا۔

تاہم، انہوں نے ایک جملے میں جواب دیا: "اگر آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلام 12 سال سے بڑی عمر کی لڑکیوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دیتا ہے، تو میں لڑکیوں کو تعلیم اور کام کرنے کی اجازت دوں گا۔"

یہ صرف شروعات ہیں

"العربیہ" کے ذرائع کے مطابق حقانی نے دیگر قیادت کو بتایا ہےکہ اقتدار پر اجارہ داری کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات قندھار سے جاری کیے جانے والے فیصلوں کو مسترد کرنے کا آغاز ہیں جن کے باعث افغان حکومت اور عالمی برادری کے درمیان ایک بڑا خلا پیدا ہورہا ہے۔ اور عالمی برادری طالبان حکومت کو قبول کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔

حقانی نے کہا کہ اگر آئندہ مارچ تک تعلیمی سال کے آغاز پر تعلیم کے بارے میں کوئی فیصلہ جاری نہ کیا گیا ، شوری کونسل ، وزارتوں اور فوجی عہدوں پر تقرریوں اور برطرفیوں میں ہیبت اللہ کی مداخلت کو نہ روکا گیا، تو وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ قندھار میں تحریک کے سپریم رہنما اور ان کے قریبی ساتھیوں پر کھل کر تنقید کریں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کے بعد وہ خود کو اور اپنے اتحادی رہنماؤں کو افغان عوام اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ان فیصلوں سے بری کرنے کی کوشش کریں گے جو حکومت اور افغان عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرتے ہیں، اور واضح طور پر اعلان کریں گے کہ فیصلے ایک رہنما جاری کرتے ہیں، اور یہ بتائیں گے کہ انہوں نے شوریٰ کے نظام میں خلل ڈالا ہے۔

مذہب سے نفرت مت پھیلائیں

گذشتہ ہفتے حقانی نے طالبان کے سپریم لیڈر اور الگ تھلگ رہنے والے رہنما پر تنقید کی اور کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کے کندھوں پر ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اس لیے مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، طالبان کو شہریوں کو اطمینان دلانا چاہیے اور اس طرح کام کرنا چاہیے کہ لوگ طالبان سے نفرت نہ کریں اور پھران کی وجہ سے مذہب سے بھی نفرت نہ کریں۔

واضح رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد، طالبان نے وعدوں کے باوجود، خواتین کی تعلیم سمیت کچھ معاملات پر لچک دکھانے کی بجائے پچھلے دور حکومت کی طرح شدت پسندی کا مظاہرہ کیا۔

دھیرے دھیرے خواتین کو عوامی زندگی سے باہر کر دیا اور انہیں گھر پر رہنے کے لیے کم اجرت دینے کے بعد ملازمتوں سے ہٹا دیا۔ گزشتہ نومبر میں خواتین کے پارکوں، باغات، جم اور عوامی سوئمنگ پولز پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

خواتین کے لیے کسی مرد رشتہ دار یا محرم کے بغیر سڑکوں پر گھومنے پر بھی سزا رکھی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں