سعودی عرب اور بوئنگ کے درمیان 121 طیاروں کےلیے 37 ارب ڈالر کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے امریکی کمپنی بوئنگ کے ساتھ 37 ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت امریکی کمپنی 121 بوئنگ 787 ڈریم لائنز طیارے تیار کرے گی۔ معاہدے کے تحت جنرل الیکڑک کمپنی طیاروں کے انجن بھی فراہم کرے گی۔

یہ اعلان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی عرب کی ایک نئی قومی ایئر لائن ’ریاض ایئر‘ کے اعلان کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس کی ملکیت بپلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ہو گی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے اور سعودی گزٹ کے مطابق ریاض ایئر نے بین الاقوامی معیار کے مطابق مسافر طیاروں کے حوالے سے اپنا پہلا سودا کیا ہے۔

سعودی عرب اور بوئنگ کے درمیان اس معاہدے کے تحت بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے سعودی عرب کو فراہم کیے جائیں گے جن میں جنرل الیکٹرک انجن نصب ہوں گے
سعودی عرب اور بوئنگ کے درمیان اس معاہدے کے تحت بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے سعودی عرب کو فراہم کیے جائیں گے جن میں جنرل الیکٹرک انجن نصب ہوں گے

نئے سودے کے تحت 39 طیاروں کی خریداری طے ہو چکی ہے جبکہ مزید 33 طیاروں کا سودا کیا جا سکتا ہے۔ طیاروں کا سودا سعودی عرب کو بین الاقوامی فضائی مرکز میں تبدیل کرنے والی فضائی قومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنیوں نے 787 ساخت کے 121 بوئنگ ڈریم لائنز کی خریداری کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بوئنگ کمپنی کی تاریخ میں قیمت کے حوالے سے طیاروں کے یہ بڑے سودوں میں سے ایک ہو گا۔

اس سودے سے 380 ملین سے زیادہ افراد کو سفری سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے سعودی ہدف پورا کیا جا سکے گا۔ سعودی عرب کا ہدف ہے کہ 2030 تک سالانہ سو ملین سیاح مملکت کا رخ کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاض ایئر مملکت کی تیل کے ماسوا مجموعی قومی پیداوار میں 75 ارب ریال تک کا اضافہ کرے گی۔ دو لاکھ سے زیادہ مواقع نکلیں گے۔ ریاض ایئر کے قیام سے امریکہ کو بھی اقتصادی فائدہ ہوگا۔ بوئنگ طیاروں کے سودے سے ایک لاکھ اسامیاں فراہم ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں