بحیرہ اسود پر امریکی ڈرون گرنے کے بعد واشنگٹن نے روسی سفیر کو طلب کرلیا

روسی لڑاکا طیارہ ڈرون سے ٹکرایا : امریکہ، ہمارا طیارہ نہیں ٹکرایا، ڈرون عدم تواز ن سے گرا: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بحیرہ اسود کے اوپر روسی لڑاکا طیارہ امریکی ڈرون سے ٹکرا گیا اور اس کے نتیجے میں امریکی ڈرون گر کر تباہ ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ نے روسی اناتولی انتونوف کو طلب کرلیا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے منگل کو روسی سفیر کو طلب کیا تھا جب ایک روسی لڑاکا طیارے نے بحیرہ اسود کے اوپر امریکی ریپر نگرانی کرنے والے ڈرون کو مار گرایا تھا۔

امریکی فضائیہ کے یورپ اور افریقہ کے کمانڈرجنرل جیمز ہیکر نے کہا کہ ہمار ا ’’ ایم کیو 9‘‘ طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں معمول کی کارروائیاں کر رہا تھا جب اس سے ایک روسی طیارہ ٹکرا گیا اور وہ گر کر تباہ ہوگیا۔ درحقیقت روسیوں کے اس غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ اقدام نے دونوں طیارے تباہ کر دیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ماسکو میں امریکی سفیر نے روسی وزارت خارجہ کو سخت پیغام پہنچایا ہے۔ امریکی حکام نے اتحادیوں اور شراکت داروں کو واقعے کے بارے میں آگاہ کردیا ہے۔

دوسری طرف روسی وزارت دفاع نے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک امریکی ڈرون بحیرہ اسود میں کریمیا کی فضائی حدود اور روسی سرحدوں کی جانب بڑھ رہا تھا اور اسے روکنے کے لیے دو روسی لڑاکا طیاروں نے ٹیک آف کیا۔ بیان میں کہا گیا روسی طیارے اس امریکی ڈرون سے نہیں ٹکرائے ۔ یہ ڈرون ہوا میں عدم توازن کے بعد گر گیا۔ تیز رفتاری کے بعد اس کا توازن خراب ہوگیا تھا اور وہ پانی میں گر گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں