بحیرہ اسود پر خطرناک روسی ۔ امریکی ٹکراؤ کے بعد لندن کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کے وزیر دفاع بین والیس نے ماسکو سے بین الاقوامی فضائی حدود کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب امریکہ نے کہا ہے کہ روس نے منگل کو بحیرہ اسود میں اس کا ایک ڈرون مار گرایا ہے۔

برطانوی وزیردفاع نے ٹوکیو میں چیبا کے مقام پر’جاپان ڈی ایس ای آئی‘ دفاعی نمائش کے دوران خبر رساں ادارے’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ "یہاں اہم بات یہ ہے کہ تمام فریق بین الاقوامی فضائی حدود کا احترام کرتےہیں اور ہم روسیوں سے ایسا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

روسی Su-27 فائٹر اور امریکی MQ-9 ملٹری ڈرون کے درمیان ٹکراؤ کا واقعہ ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے دونوں طاقتوں کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا براہ راست تصادم ہے اور اس سے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا خطرہ ہے۔ روس نے کہا ہےکہ وہ اس واقعے کو اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھتا ہے۔

بحیرہ اسود کے اوپر امریکی ڈرون کے ساتھ روسی لڑاکا طیارے کے تصادم کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے واشنگٹن میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف کو طلب کرکے واقعے پران سے احتجاج کیا گیا۔ نتونوف نے کہا کہ بحیرہ اسود میں امریکی ڈرون کی موجودگی ایک غیر معمولی بات اور اشتعال انگیزی کا عمل ہے۔

حکام کے مطابق امریکی ڈرون کو روکنے کی کوشش میں روسی طیارہ ڈرون سے ٹکرا گیا، ٹکر کے نتیجے میں امریکی ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

امریکی فوجی حکام نے روسی طیاروں کے اس عمل کو ’’غیر محفوظ‘‘ اور ’’غیر پیشہ ورانہ‘‘ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی طیارے نے متعدد بار امریکی ڈرون کے قریب سے گزر کر اس پر تیل گرانے کی کوشش بھی کی تھی جو کہ ماحولیاتی اور پیشہ ور اخلاقیات کے منافی عمل تھا۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کے باوجود امریکا اور اس کے اتحادی علاقے میں اپنا آپریشن جاری رکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں