بشار الاسد زلزلے کے بعد خطے سے باہر اپنے پہلے دورے پر ماسکو پہنچ گئے

سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوگا: کریملن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے صدر بشار الاسد گزشتہ ماہ کے زلزلے کے بعد مشرق وسطیٰ سے باہر اپنے پہلے دورے میں روسی صدر پوتین سے ملاقات کے لیے ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ کریملن نے اعلان کیا کہ روسی صدر بدھ کو ماسکو میں اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔

کریملن نے کہا کہ سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں روسی-شامی تعاون کے فروغ سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شام اور ملک کے ارد گرد کی صورت حال کے مربوط حل کے امکانات پر بھی گفت و شنید ہوگی۔

یہ دورہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ترکیہ کے سفارتی ذرائع نے اس ہفتے اعلان کیا تھا کہ ماسکو 15 اور 16 مارچ کو ترکیہ ، روس، ایران اور شامی حکومت کے نائب وزرائے خارجہ کی میزبانی کرے گا تاکہ شام سے متعلق بات چیت کی جا سکے۔

واضح رہے انقرہ اور دمشق کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے کے فریم ورک کے تحت 28 دسمبر کو ماسکو میں روس، شام اور ترکیہ کے وزرائے دفاع کے درمیان مشاورت ہوئی تھی کیونکہ ترک فریق کا خیا ل تھا کہ یہ مشاورت شام کی صورت حال کے جامع سیاسی تصفیے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

15 دسمبر کو ترک صدر رجب طیب اردگان نے اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب پوتین کو بشار الاسد کی شرکت کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی تجویز پیش کی ہے۔ بشرطیکہ اس سربراہی اجلاس سے قبل سکیورٹی سروسز کے نمائندوں کی سطح پر بات چیت مکمل ہوجائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں