روس بحیرۂ اسود میں ڈرون واقعہ کے بعدمزید احتیاط کا مظاہرہ کرے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے بتایا ہے کہ واشنگٹن میں متعیّن روسی سفیرکوامریکی حکام نے مطلع کردیا ہے کہ ماسکوکوبین الاقوامی فضائی حدودمیں پرواز کرتے وقت زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کے روز روسی سفیراناطولی انتونوف کو طلب کیا تھا اور ان سے امریکی ڈرون کے بحیرۂ اسود میں گرکرتباہ ہونے پرتشویش کا اظہار کیا تھا۔یہ ایک سال قبل یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد اس طرح کا پہلا واقعہ ہے۔

جان کربی نے سی این این کودیے گئے انٹرویومیں کہا:’’ہم نے روسی سفیرکو یہ پیغام دیا ہے کہ انھیں امریکی اثاثوں (ڈرونز)کے قریب بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کرتے وقت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔وہ مکمل طورپرقانونی طریقوں سے پروازکررہے ہیں اورہمارے قومی سلامتی کے مفادات کی حمایت میں مشن انجام دے رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ایم کیو-9 نگرانی کرنے والا ڈرون بحیرۂ اسودکی گہرائی کو دیکھتے ہوئے اب تک برآمد کیا جاسکا ہے اور نہ ہی اسے کبھی بازیاب کیا جا سکے گا۔لہٰذا،ہم اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس کو نکالنے کی کسی بھی قسم کی کوشش کی جاسکتی ہے یانہیں‘‘۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کاکہنا ہے کہ روس کے ایس یو27 طیاروں میں سے ایک نے منگل کے روز ڈرون کے پروپیلرکونشانہ بنایا تھا۔اس کی وجہ سے یہ ناکارہ ہو گیا جبکہ روسی وزارتِ دفاع نے حادثے کا سبب اس بغیرپائلٹ امریکی ڈرون کی ’تیزحرکات‘کو قراردیااورکہاکہ اس کے جیٹ طیارے اس کے قریب نہیں گئے تھے۔

روسی سفیرانتونوف نے کہاکہ ڈرون جان بوجھ کراور اشتعال انگیزطریقے سے روسی علاقے کی طرف بڑھ رہا تھااوراس کے ابلاغی نظام کوبند کردیاگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں