چین کوایران پراثرورسوخ حاصل ہے:سعودی عہدہ دار

ایران بیجنگ میں سعودی عرب سے طے شدہ معاہدے کا احترام نہیں کرتاتو اس کے لیے وضاحت کرنا مشکل ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہا ہے کہ چین کو ایران پراثرورسوخ حاصل ہے اور اگر وہ بیجنگ میں سعودی عرب کے ساتھ طے شدہ معاہدے کا احترام نہیں کرتا ہے تو تہران کے لیے اس کی وضاحت کرنا مشکل ہوگا۔

ایران اور سعودی عرب نے چین میں منعقدہ مذاکرات کے بعد دوطرفہ سفارتی تعلقات بحال کرنے سےاتفاق کیا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ قریباً سات سال سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے تھے۔

اس سعودی عہدہ دار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پرکہاکہ چین ایک منفرد پوزیشن میں ہے کیونکہ اس کے ایران اورسعودی عرب دونوں کے ساتھ غیر معمولی دوستانہ تعلقات استوارہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں سب سے مشکل موضوعات یمن، میڈیا اورچین کے کردار سے متعلق تھے۔

ایران اورسعودی عرب کے درمیان گذشتہ برسوں سے جاری مخاصمت نے خلیج میں استحکام اورسلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا اور یمن سے شام تک مشرقِ اوسط میں تنازعات کو ہوا دی تھی۔

چینی وزارت خارجہ نے مذاکرات کے اختتام پر وزیرخارجہ وانگ یی کے حوالے سے کہاکہ’’یہ مذاکرات اور امن کی ایک ایسے وقت میں فتح ہے،جب دنیا میں بہت زیادہ افراتفری پائی جارہی ہے‘‘۔

چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ سہ فریقی بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان غیرعلانیہ مذاکرات 6 سے10 مارچ تک چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہوئے تھے۔ان میں سعودی عرب اورایران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے نے شرکت کی تھی۔

بیان میں تینوں فریقین نے بین الاقوامی اورعلاقائی امن و سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیےہرممکن کوشش کرنے پرآمادگی کا اظہار کیا تھا۔

یہ تاریخی معاہدہ ایک ایسے خطے میں چین کے لیے ایک سفارتی فتح بھی ہے جہاں کی جغرافیائی سیاست پر امریکاکا عشروں سےغلبہ رہا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین یوکرین میں روس کی جنگ پربات چیت کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ مغرب کی جانب سے یہ الزام عایدکیاجارہا ہے کہ بیجنگ نے اس معاملے میں خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں