امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد جرمن اور برطانوی لڑاکا طیاروں نے روسی طیارہ روک لیا

نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی، پہلی مرتبہ برطانیہ اور جرمنی نے مشترکہ طور پر روسی جنگجوؤں کو روکا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ اور جرمنی کے لڑاکا طیاروں نے ان دو روسی طیاروں کو روک لیا جو منگل کو دیر گئے ایسٹونیا کے قریب پرواز کر رہے تھے۔ ایندھن لے جانے والا طیارہ ’’ میڈاس 79 ٹو‘‘ اور ایک ملٹری ٹرانسپورٹ کا طیارہ ’’ اینٹونوو 148 ‘‘ ایسٹونیا کے حکام سے رابطہ کیے بغیر نیٹو کی فضائی حدود تک پہنچ گئے تھے۔ امریکی "فاکس نیوز" کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب برطانیہ اور جرمنی نے نیٹو معاہدے کے ایک حصے کے طور پر مشترکہ فضائی مداخلت کی ہے۔

برطانیہ کی مسلح افواج کے سیکرٹری جیمز ہیپی نے ایک بیان میں کہا کہ نیٹو بدستور ہماری اجتماعی سلامتی کی بنیاد بنا رہا ہے۔ بالٹکس میں برطانیہ اور جرمنی کی یہ مشترکہ تعیناتی ہماری مشترکہ طاقت کا مظہر اور نیٹو کی سرحدوں کو کسی بھی ممکنہ خطرے کو چیلنج کرنے کے ہمارے اجتماعی عزم کا اظہار بھی تھی۔

امریکی ڈرون کی فائل فوٹو
امریکی ڈرون کی فائل فوٹو

یہ واقعہ دو روسی جیٹ طیاروں کی جانب سے بحیرہ اسود کے اوپر امریکی ڈرون کو مار گرانے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا ہے۔ اس واقعہ میں دونوں جیٹ طیاروں نے ڈرون کے پروپیلر کو کاٹنے سے پہلے کئی منٹ تک ڈرون کو ہراساں کیا تھا۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ حادثے کے وقت ڈرون بین الاقوامی فضائی حدود میں معمول کی کارروائیاں کر رہا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں کو بتایا کہ محکمہ خارجہ نے امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انٹونوف کو طلب کر کے اپنے "سخت اعتراض" کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں