ایران نے معاہدے سے پہلے ملاقاتوں کی کوشش کی تھی: سعودی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ جمعہ کو بیجنگ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2016ء سے منقطع تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے اور دو ماہ کے اندر دونوں سفارتخانوں کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کے بعد ایک سعودی ذریعے نے آج جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ ایرانی اعلیٰ عہدیدار معاہدے سے پہلے سعودی عرب کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ سعودی مذاکراتی وفد میں دفاع، خارجہ امور، انٹیلی جنس اور ریاستی سلامتی کے نمائندے شامل تھے۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ سعودی ایران مذاکراتی ملاقاتیں 5 دن تک بیجنگ میں جاری رہیں اور 3 نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ریاستوں کی خودمختاری کا احترام شامل ہے ریاض فریقین کی خدمت کے لیے تہران کے ساتھ تعاون کر سکتا ہے۔

"وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق ذرائع نے اس بات کی نشاندہی کی کہ چین خلیج میں تجارت اور نیویگیشن کے استحکام میں بہت دلچسپی رکھتا ہے۔ چینی کردار سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے لیے ایران کے عزم کی یقین دہانی کو مضبوط بنا رہا ہے۔

حوثیوں کو مسلح کرنے کا سلسلہ بند کرنے کی بات

ذرائع نے اعلان کیا کہ یمن میں تنازع کے حوالے سے ایران کا نقطہ نظر اس کے ارادوں کا حقیقی امتحان ہو گا خاص طور پر چونکہ اس نے حوثیوں کو مسلح کرنے سے روکنے پر اتفاق کیا تھا۔

انہوں نے یمن کے حوالے سے معاہدے کے لیے سعودیہ اور ایران کی مشترکہ حمایت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حالات نے ریاض کو اپنے مطالبات سے زیادہ سے زیادہ منوانے میں مدد فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ نے مذاکرات کے دوران ایران پر دباؤ ڈالنے میں ریاض کی مدد کی۔

ایران کے ساتھ دوطرفہ سکیورٹی اور دفاعی عزم پر بھی زور دیا کہ وہ فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس حملے نہیں کرے گا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ مملکت کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کا وقت رائیگاں نہیں گیا۔ ریاض نے بیجنگ جا کر ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے اپنے اتحادیوں بشمول امریکا کو آگاہ کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں