بشارالاسد کا شام میں مزید روسی افواج کی تعیناتی اور اس کے مستقل قیام کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے صدر بشار الاسد نے جمعرات کو کہا ہے کہ دمشق روس کی جانب سے شام میں نئے فوجی اڈے قائم کرنے یا اپنی افواج کی تعداد میں اضافے کی کسی بھی تجویز کا خیرمقدم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کے ملک میں روسی فوجی موجودگی عارضی نہیں ہو سکتی، کیونکہ شام میں روسی فوج کی موجودگی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ شام میں روسی فوج کی موجودگی بین الاقوامی توازن سے جڑی ہوئی ہے۔

بشارالاسد جو ماسکو کے دورے پرہیں نے روسی ایجنسی "ریا نووستی" کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ "ہم ایک بین الاقوامی توازن کی بات کر رہے ہیں اور شام میں روس کی موجودگی بحیرہ روم پر واقع ایک ملک کے طور پر دنیا میں طاقت کا توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "فوجی اڈوں کے حوالے سےبات کریں تو یہ ایک مشترکہ نقطہ نظر کی بات ہے جس کا ایک سیاسی پہلو اور ایک فوجی پہلو ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے اس مسئلے پر بات نہیں کی گئی لیکن سیاسی نقطہ نظر سے بات کی جاتی ہے۔ فوجی نقطہ نظر دہشت گردی سے نمٹنے کے مسئلے سے منسلک ہے.اس لیے روسی فوج کا شام میں عارضی قیام نہیں ہو سکتا‘‘۔

بشارالاسد نےزور دے کر کہا کہ "آج کی سپر پاور اپنی سرحدوں کے اندر سے اپنی حفاظت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہیں یہ کردار اپنی سرحدوں کے باہر سے اپنے اتحادیوں یا اڈوں کے ذریعے ادا کرنا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر روس فوجی اڈوں کو بڑھانے یا ان کی تعداد میں اضافہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور یہ ایک لاجسٹک اور تکنیکی مسئلہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شام میں روسی موجودگی کو بڑھانا ایک اچھی چیز ہے۔ کسی دوسرے ملک کے ساتھ روس کا تعلق ہو توہاں پربھی ایسا ہی ہوتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ چیز مستقبل میں ضروری ہو سکتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر آپ اڈے بنانے جا رہے ہیں، تواس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اڈے فوجی نقطہ نظر سے کمزور ہوں۔ بہترین ہتھیاروں سے لیس ہوں۔ یہ فطری اور منطقی چیز ہے چاہے وہ ہائپر سونک میزائل ہو یا مزید ترقی یافتہ ہتھیار۔ اس سب کےباوجود آج مستقبل میں اصول ایک ہی گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں